الأنفال

انفال

75 آیاتمدنیپارہ 9

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 54

    كَدَأْبِ ءَالِ فِرْعَوْنَ ۙ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ رَبِّهِمْ فَأَهْلَكْنَـٰهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَغْرَقْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ ۚ وَكُلٌّ كَانُوا۟ ظَـٰلِمِينَ

    مثل حالت فرعونیوں کے اور ان سے پہلے کے لوگوں کے کہ انہوں نے اپنے رب کی باتیں جھٹلائیں۔ پس ان کے گناہوں کے باعﺚ ہم نے انہیں برباد کیا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ یہ سارے ﻇالم تھے۔[1]

    حواشی

    [1] یہ اسی بات کی تاکید ہے جو پہلے گزری، البتہ اس میں ہلاکت کی صورت کا اضافہ ہے کہ انہیں غرق کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں یہ واضح کر دیا کہ اللہ نے ان کو غرق کرکے ان پر ظلم نہیں کیا، بلکہ یہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے۔ اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا ”وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّٰمٖ لِّلۡعَبِيدِ“ (فصلت: 46)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 54 کی تفسیر

    [54] ﴿ كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ﴾ ’’جیسی عادت آل فرعون کی۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کی قوم کی عادت ﴿ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ ﴾ ’’اور ان کی جو ان سے پہلے لوگ تھے، انھوں نے رب کی آیتوں کو جھٹلایا‘‘ یعنی جب ان کے پاس ان کے رب کی نشانیاں آئیں تو انھوں نے ان کی تکذیب کی۔ ﴿فَاَهْلَكْنٰهُمْ۠ بِذُنُوْبِهِمْ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے باعث ہلاک کردیا۔‘‘ ہر ایک کو اس کے جرم کے مطابق۔ ﴿ وَكُ٘لٌّ٘ ﴾ ’’اور وہ سب‘‘ یعنی تمام ہلاک ہونے والے اور جن پر عذاب نازل کیا گیا۔ ﴿ كَانُوْا ظٰ٘لِمِیْنَ ﴾ ’’ظالم تھے۔‘‘ یعنی وہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا اور نہ ان کو کسی ایسے جرم میں پکڑا ہے جس کا انھوں نے ارتکاب نہ کیا ہو۔ پس ان لوگوں کو، جو ان آیات کریمات کے مخاطب ہیں ، ظلم میں ان قوموں کی مشابہت سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی اللہ تعالیٰ وہی عذاب نازل کرے گا جو ان فساق و فجار لوگوں پر نازل کیا تھا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 54 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتوبہالتوبة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید