الأنفال

انفال

75 آیاتمدنیپارہ 9

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 60

    وَأَعِدُّوا۟ لَهُم مَّا ٱسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ ٱلْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِۦ عَدُوَّ ٱللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَءَاخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ ٱللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِن شَىْءٍ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ

    تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی[1] کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زده رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی، جنہیں تم نہیں جانتے، اللہ انہیں خوب جان رہا ہے جو کچھ بھی اللہ کی راه میں صرف کرو گے وه تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔

    حواشی

    [1] قُوَّةٍ کی تفسیر نبی (صلى الله عليه وسلم) سے ثابت ہے یعنی تیراندازی (صحيح مسلم- كتاب الإمارة- باب فضل الرمي والحث عليه- وديكر كتب حديث) کیونکہ اس دور میں یہ بہت بڑا جنگی ہتھیار اور نہایت اہم فن تھا، جس طرح گھوڑے جنگ کے لئے ناگزیر ضرورت تھے، جیسا کہ اس آیت سے بھی واضح ہے۔ لیکن اب تیر اندازی اور گھوڑوں کی یہ جنگی اہمیت وافادیت وضرورت باقی نہیں رہی۔ اس لئے ”وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ“ کے تحت آج کل کے جنگی ہتھیاروں (مثلاً میزائیل، ٹینک، بم اور جنگی جہاز اور بحری جنگ کے لئے آبدوزیں وغیرہ) کی تیاری ضروری ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 60 کی تفسیر

    [60] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں سے فرمایا: ﴿وَاَعِدُّوْا ﴾ ’’اور تیار کرو تم‘‘یعنی اپنے کفار دشمنوں کے لیے تیار کرو جو تمھیں ہلاک کرنے اور تمھارے دین کے ابطال کے درپے رہتے ہیں ۔ ﴿ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُ٘وَّ٘ةٍ ﴾ ’’اپنی طاقت بھر قوت۔‘‘ یعنی قوت عقلیہ، قوت بدنیہ اور مختلف انواع کا اسلحہ، جو دشمن کے خلاف جنگ میں تمھاری مدد کرے۔ کفار کے خلاف اس تیاری میں وہ تمام صنعتیں آجاتی ہیں جن سے اسلحہ اور آلات حرب بنائے جاتے ہیں ، مثلاً: توپیں ، مشین گنیں ، بندوقیں ، جنگی طیارے، بری اور بحری سواریاں ، دفاعی قلعہ بندیاں ، مورچے اور دیگر دفاعی آلات حرب وغیرہ۔ نیز حکمت عملی اور سیاست کاری میں مہارت پیدا کرنا، جس کے ذریعے سے وہ آگے بڑھ سکیں اور دشمن کے شر سے اپنا دفاع کر سکیں ۔ نشانہ بازی، شجاعت اور جنگی منصوبہ سازی کی تعلیم حاصل کرنا۔ اسی لیے نبی اکرمe نے فرمایا: (اَلاَ اِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ) ’’سن لو، قوت سے مراد تیر اندازی ہے‘‘(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الرمي… الخ، حدیث: 1917) کیونکہ عہد رسالت میں تیراندازی، جنگ کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ تھا۔ نیز ان گاڑیوں کی تیاری، جو جنگ میں ونقل و حرکت میں کام آتی ہیں ، جنگی استعداد میں شمار ہوتی ہیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿وَّمِنْ رِّبَ٘اطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّؔكُمْ ﴾ ’’اور گھوڑوں کو تیار رکھ کر، کہ اس سے دھاک بٹھاؤ تم اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر‘‘ اس حکم کی علت، اس زمانے میں بھی موجود ہے اور وہ ہے دشمنوں کو مرعوب رکھنا۔ حکم کا دارومدار علت پر ہوتا ہے۔ اگر دنیا میں ایسے آلات اور سامان حرب موجود ہوں جن کے ذریعے سے دشمن کو مذکورہ چیزوں سے زیادہ خوف زدہ رکھا جا سکتا ہو...، یعنی گاڑیاں اور ہوائی طیارے جو جنگ میں کام آتے ہیں اور جن کی ضرب بھی کاری ہے.... تو ان کو حاصل کر کے ان کے ذریعے سے جنگی استعداد بڑھانا فرض ہے۔ حتیٰ کہ اگر اس سامان حرب کو صنعت کی تعلیم حاصل کیے بغیر، حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو یہ تعلیم حاصل کرنا بھی فرض ہو گا کیونکہ فقہی قاعدہ ہے (مَالَا یَتِمُّ الْوَاجِبُ اِلَّا بِہٖ فَھُوَ وَاجِبٌ) ’’جس کے بغیر واجب کی تکمیل ممکن نہ ہو تو وہ بھی واجب ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّؔكُمْ ﴾ میں ’’تمھارے دشمن‘‘ سے مراد وہ ہیں جن کے بارے میں تم جانتے ہو کہ وہ تمھارے دشمن ہیں ۔ ﴿ وَاٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ۠﴾ ’’اور دوسروں پر ان کے سوا، جن کو تم نہیں جانتے‘‘ یعنی جن کے بارے میں تمھیں معلوم نہیں جو اس وقت کے بعد، جب اللہ تم سے مخاطب ہے، تمھارے ساتھ لڑائی کریں گے۔ ﴿ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ ﴾ ’’اللہ ان کو جانتا ہے‘‘ پس اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ دشمن کے خلاف جنگ میں جو چیز سب سے زیادہ مدد دیتی ہے وہ ہے کفار کے خلاف جہاد میں مال خرچ کرنا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ کی راہ میں ‘‘ خواہ یہ قلیل ہو یا کثیر ﴿ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ ﴾ ’’وہ پورا پورا تمھیں دیا جائے گا‘‘ یعنی قیامت کے روز اس کا اجر کئی گنا کر کے ادا کیا جائے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیے گئے مال کا ثواب سات سو گنا سے لے کر اس سے بھی زیادہ بڑھا کر دیا جائے گا۔ ﴿ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ﴾ ’’اور تمھاری حق تلفی نہ ہوگی‘‘ یعنی تمھارے لیے اس کے اجر و ثواب میں کچھ بھی کمی نہ کی جائے گی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 60 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتوبہالتوبة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید