الأنفال

انفال

75 آیاتمدنیپارہ 9

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 65

    يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ حَرِّضِ ٱلْمُؤْمِنِينَ عَلَى ٱلْقِتَالِ ۚ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَـٰبِرُونَ يَغْلِبُوا۟ مِا۟ئَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةٌ يَغْلِبُوٓا۟ أَلْفًا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ

    اے نبی! ایمان والوں کو جہاد کا شوق دلاؤ[1] اگر تم میں بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے، تو دو سو پر غالب رہیں گے۔ اور اگر تم میں ایک سو ہوں گے تو ایک ہزار کافروں پر غالب رہیں گے[2] اس واسطے کہ وه بے سمجھ لوگ ہیں۔

    حواشی

    [1] تَحْرِيضٌ کے معنی ہیں ترغیب میں مبالغہ کرنا یعنی خوب رغبت دلانا اور شوق پیدا کرنا ۔چنانچہ اس کے مطابق نبی (صلى الله عليه وسلم) جنگ سے قبل صحابہ کو جہاد کی ترغیب دیتے اور اس کی فضیلت بیان فرماتے۔ جیسا کہ بدر کے موقعے پر، جب مشرکین اپنی بھاری تعداد اور بھرپور وسائل کے ساتھ میدان میں آموجود ہوئے، آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا :ایسی جنت میں جانے کے لئے کھڑے ہو جاؤ جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے“، ایک صحابی عمیر بن حمام (رضي الله عنه) نے کہا اس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ہاں، اس پر بخ بخ کہا یعنی خوشی کا اظہار کیا اور یہ امید ظاہر کی کہ میں بھی جنت میں جانے والوں میں سے ہوں گا۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”تم اس میں جانے والوں میں سے ہوگے“۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تلوار کی میان توڑ ڈالی اور کھجوریں نکال کر کھانے لگے، پھر جو بچیں، ہاتھ سے پھینک دیں اور کہا۔ ان کے کھانے تک میں زندہ رہا تو یہ تو طویل زندگی ہوگی پھر آگے بڑھے اور داد شجاعت دینے لگے، حتیٰ کہ عروس شہادت سے ہمکنار ہوگئے (رضي الله عنه)۔ (صحيح مسلم- كتاب الإمارة- باب ثبوت الجنة للشهيد) [2] یہ مسلمانوں کے لئے بشارت ہے کہ تمہارے ثابت قدمی سے لڑنے والے بیس مجاہد دو سو پر اور سو ایک ہزار پر غالب رہیں گے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 65 کی تفسیر

    [65] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیe سے فرماتا ہے ﴿ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ﴾ ’’اے نبی! مومنوں کو جہاد کی ترغیب دو۔‘‘ یعنی آپ انھیں ہر اس طریقے کے ذریعے سے قتال پر آمادہ کریں جس سے ان کے عزائم مضبوط ہوں اور ان کے ارادوں میں نشاط پیدا ہو، یعنی جہاد اور دشمن سے مقابلے کی ترغیب دی جائے اور جہاد سے باز رہنے کے انجام سے ڈرایا جائے۔ شجاعت اور صبر کے فضائل اور ان پرمرتب ہونے والی دین و دنیا کی بھلائی کا ذکر کیا جائے۔ بزدلی کے نقصانات بیان کیے جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ بزدلی ایک انتہائی رذیل اور ناقص خصلت ہے اور شجاعت کا اہل ایمان کی صفت ہونا دوسروں کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ﴾ (النساء: 4؍104) ’’اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو انھیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمھیں پہنچتی ہے تم اللہ سے ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔‘‘﴿ اِنْ یَّؔكُنْ مِّؔنْكُمْ ﴾ ’’اے مومنو! اگر ہوں تم میں سے‘‘ ﴿ عِشْ٘رُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَاِنْ یَّؔكُنْ مِّؔنْكُمْ مِّؔائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ﴾ ’’بیس شخص ثابت قدم رہنے والے تو غالب ہوں گے وہ دو سو پر اور اگر ہوں تم میں سے سو شخص تو غالب ہوں گے ہزار کافروں پر‘‘ یعنی ایک مومن دس کافروں کا مقابلہ کرے گا اور اس کا سبب یہ ہے ﴿ بِاَنَّهُمْ ﴾ ’’کہ وہ‘‘ یعنی کفار ﴿ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ ﴾ ’’ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے‘‘ یعنی انھیں کوئی علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے کیا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ پس یہ کفار زمین میں اقتدار، تغلب اور اس میں فساد پھیلانے کے لیے لڑتے ہیں اور تم (اے مسلمانو)! اس جنگ کا مقصد سمجھتے ہو کہ یہ جنگ اعلائے کلمۃ اللہ، دین کے غلبہ، کتاب اللہ کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی کامیابی کے حصول کے لیے ہے اور یہ تمام امور شجاعت ، صبر و ثبات اور اقدام علی القتال کے اسباب ہیں ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 65 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتوبہالتوبة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید