عبس

عبس

42 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 7

    وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ

    حاﻻنکہ اس کے نہ سنورنے سے تجھ پر کوئی الزام نہیں.[1]

    حواشی

    [1] کیوں کہ تیرا کام تو صرف تبلیغ ہے۔ اس لئے اس قسم کے کفار کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 10 کی تفسیر

    ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمe کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا:

    [1 - 10] ﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا : ﴿وَمَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ یَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوْ یَذَّكَّـرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔ رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتکویرالتكوير

غلطی کی اطلاع دیں

مزید