عبس
عبس
محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ عبس
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ
وه ترش رو ہوا اور منھ موڑ لیا.
آیت کے اختیارات
- 2
أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ
(صرف اس لئے) کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا.[1]
حواشی
[1] ابن ام مکتوم سےنبی (صلى الله عليه وسلم) کے چہرے پر جو ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے، اسے عَبَسَ سے اور توجہی کو تَوَلَّى ٰ سے تعبیر فرمایا۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ
تجھے کیا خبر شاید وه سنور جاتا.[1]
حواشی
[1] یعنی وہ نابینا تجھ سے دینی رہنمائی حاصل کرکے عمل صالح کرتا جس سے اس کا اخلا ق وکردار سنور جاتا، اس کے باطن کی اصلاح ہو جاتی اور تیری نصیحت سننے سے اس کو فائدہ ہوتا۔
آیت کے اختیارات
- 4
أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكْرَىٰٓ
یا نصیحت سنتا اور اسے نصیحت فائده پہنچاتی.
آیت کے اختیارات
- 5
أَمَّا مَنِ ٱسْتَغْنَىٰ
جو بے پرواہی کرتا ہے.[1]
حواشی
[1] ایمان سے اور اس علم سے جو تیرے پاس اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ یا دوسرا ترجمہ ہے جو صاحب ثروت وغنا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 6
فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ
اس کی طرف تو تو پوری توجہ کرتا ہے.[1]
حواشی
[1] اس میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کو مزید توجہ دلائی گئی ہے کہ مخلصین کو چھوڑ کر معرضین کی طرف توجہ مبذول رکھنا صحیح بات نہیں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 7
وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ
حاﻻنکہ اس کے نہ سنورنے سے تجھ پر کوئی الزام نہیں.[1]
حواشی
[1] کیوں کہ تیرا کام تو صرف تبلیغ ہے۔ اس لئے اس قسم کے کفار کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 8
وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ
اور جو شخص تیرے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے.[1]
حواشی
[1] اس بات کا طالب بن کر کہ تو خیر کی طرف اس کی رہنمائی کرے اور اسے وعظ ونصیحت سے نوازے۔
آیت کے اختیارات
- 9
وَهُوَ يَخْشَىٰ
اور وه ڈر (بھی) رہا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی اللہ کا خوف بھی اس کے دل میں ہے، جس کی وجہ سے یہ امید ہے کہ تیری باتیں اس کےلئے مفید ہوں گی اور وہ ان کو اپنائے گا اور ان پر عمل کرے گا۔
آیت کے اختیارات
- 10
فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ
تو اس سے بےرخی برتتا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی ایسے لوگوں کی تو قدر افزائی کی ضرورت ہے نہ کہ ان سے بےرخی برتنے کی۔ ان آیات سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دعوت وتبلیغ میں کسی کو خاص نہیں کرنا چاہئے بلکہ اصحاب حیثیت اور بےحیثیت، امیر اور غریب، آقا وغلام، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے سب کو یکساں حیثیت دی جائے اور سب کو مشترکہ خطاب کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اپنی حکمت بالغہ کے تحت، ہدایت سے نواز دے گا۔ ( ابن کثیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 11
كَلَّآ إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ
یہ ٹھیک نہیں[1] قرآن تو نصیحت (کی چیز) ہے.
حواشی
[1] یعنی غریب سے یہ اعراض اور اصحاب حیثیت کی طرف خصوصی توجہ، یہ ٹھیک نہیں۔ مطلب ہے کہ آئندہ اس کا اعادہ نہ ہو۔
آیت کے اختیارات
- 12
فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ
جو چاہے اس سے نصیحت لے.[1]
حواشی
[1] یعنی جو اس میں رغبت کرے، وہ اس سے نصیحت حاصل کرے، اسے یاد کرے اور اس کے موجبات پر عمل کرے۔ اور جو اس اعراض سے کرے اور بے رخی برتے، جیسے اشراف قریش نے کیا، تو ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 13
فِى صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ
(یہ تو) پر عظمت صحیفوں میں (ہے).[1]
حواشی
[1] یعنی لوح محفوظ میں، کیوں کہ وہیں سے یہ قرآن اترتا ہے۔ یا مطلب ہے کہ یہ صحیفے اللہ کے ہاں بڑےمحترم ہیں کیوں کہ وہ علم وحکمت سے پر ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 14
مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ
جو بلند وباﻻ اور پاک صاف ہے.[1]
حواشی
[1] مَرْفُوعَةٍ اللہ کے ہاں رفیع القدر ہیں، یا شبہات اور تناقض سے بلند ہیں۔ مُطَهَّرَةٍ، وہ بالکل پاک ہیں کیوں کہ انہیں پاک لوگوں ( فرشتوں ) کے سوا کوئی چھوتا ہی نہیں، یا کمی بیشی سے پاک ہے۔
آیت کے اختیارات
- 15
بِأَيْدِى سَفَرَةٍ
ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے.[1]
حواشی
[1] سَفَرَةٍ، سَافِرٌ کی جمع ہے، یہ سفارت سے ہے۔ مراد یہاں وہ فرشتے ہیں جو اللہ کی وحی اس کےرسولوں تک پہنچاتے ہیں۔ یعنی اللہ اور اس کےرسول کے درمیان سفارت کا کام کرتے ہیں۔ یہ قرآن ایسے سفیروں کے ہاتھوں میں ہےجو اسے لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 16
كِرَامٍۭ بَرَرَةٍ
جو بزرگ اور پاکباز ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی خلق کے اعتبار سے وہ کریم یعنی شریف اور بزرگ ہیں اور افعال کے اعتبار سے وہ نیکو کار اور پاکباز ہیں۔ یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حامل قرآن ( حافظ اور عالم ) کو بھی اخلاق وکردار اور افعال واطوار میں كِرَامٍ بَرَرَةٍ کا مصداق ہونا چاہئے۔ (ابن کثیر) حدیث میں بھی سَفَرَةٍ کا لفظ فرشتوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا ماہر ہے، وہ السَّفَرَةُ الكِرَامُ الْبَرَرَةُ ( فرشتوں ) کے ساتھ ہوگا اور جو قرآن پڑھتا ہے، لیکن مشقت کےساتھ۔ ( یعنی ماہرین کی طرح سہولت اور روانی سےنہیں پڑھتا ) اس کے لئے دوگنا اجر ہے۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة عبس مسلم، كتاب الصلاة، باب فضل الماهر بالقرآن....)۔
آیت کے اختیارات
- 17
قُتِلَ ٱلْإِنسَـٰنُ مَآ أَكْفَرَهُۥ
اللہ کی مار انسان پر کیسا ناشکرا ہے.[1]
حواشی
[1] اس سے وہ انسان مراد ہے جو بغیر کسی سند اور دلیل کے قیامت کی تکذیب کرتا ہے۔ قُتِلَ بمعنی لُعِنَ اور مَا أَكْفَرَهُ ! فعل تعجب ہے، کس قدر ناشکرا ہے۔ آگے اس انسان کفور کو غور وفکر کی دعوت دی جا رہی ہے کہ شاید وہ اپنے کفر سے باز آجائے۔
آیت کے اختیارات
- 18
مِنْ أَىِّ شَىْءٍ خَلَقَهُۥ
اسے اللہ نے کس چیز سے پیدا کیا.
آیت کے اختیارات
- 19
مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ
اسے) ایک نطفہ[1] سے پیدا کیا،پھراس کا اندازہ مقررکیا .[2]
حواشی
[1] یعنی جس کی پیدائش ایسے حقیر قطرۂ آب سے ہوئی ہے، کیا اسے تکبر زیب دیتا ہے؟ [2] اس کا مطلب ہے کہ اس کے مصالح نفس اسے مہیا کیے، اس کو دو ہاتھ دو پیر اوردو آنکھیں اور دیگر آلات وخواص عطا کیے۔
آیت کے اختیارات
- 20
ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ
پھر اس کے لئے راستہ آسان کیا.[1]
حواشی
[1] یعنی خیر اور شر کے راستے اس کے لئے واضح کر دیئے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
آیت کے اختیارات
- 21
ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقْبَرَهُۥ
پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا.
آیت کے اختیارات
- 22
ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنشَرَهُۥ
پھر جب چاہے گا اسے زنده کر دے گا۔
آیت کے اختیارات
- 23
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ أَمَرَهُۥ
ہرگز نہیں[1] ۔ اس نے اب تک اللہ کے حکم کی بجا آوری نہیں کی.
حواشی
[1] یعنی معاملہ اس طرح نہیں ہے‘ جس طرح یہ کافر کہتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 24
فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَـٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ
انسان کو چاہئے کہ اپنے کھانے کو دیکھے.[1]
حواشی
[1] کہ اسے اللہ نے کس طرح پیدا کیا، جو اس کی زندگی کا سبب ہے اور کس طرح اس کے لئے اسباب معاش مہیا کئے تاکہ وہ ان کے ذریعے سے سعادت اخروی حاصل کر سکے۔
آیت کے اختیارات
- 25
أَنَّا صَبَبْنَا ٱلْمَآءَ صَبًّا
کہ ہم نے خوب پانی برسایا.
آیت کے اختیارات
- 26
ثُمَّ شَقَقْنَا ٱلْأَرْضَ شَقًّا
پھر پھاڑا زمین کو اچھی طرح.
آیت کے اختیارات
- 27
فَأَنۢبَتْنَا فِيهَا حَبًّا
پھر اس میں سے اناج اگائے.
آیت کے اختیارات
- 28
وَعِنَبًا وَقَضْبًا
اور انگور اور ترکاری.
آیت کے اختیارات
- 29
وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا
اور زیتون اور کھجور.
آیت کے اختیارات
- 30
وَحَدَآئِقَ غُلْبًا
اور گنجان باغات.
آیت کے اختیارات
- 31
وَفَـٰكِهَةً وَأَبًّا
اور میوه اور (گھاس) چاره (بھی اگایا).[1]
حواشی
[1] أباً، وہ گھاس چارہ جو خود رو ہو اور جسے جانور کھاتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 32
مَّتَـٰعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ
تمہارے استعمال وفائدے کے لئے اور تمہارے چوپایوں کے لئے.
آیت کے اختیارات
- 33
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ
پس جب کہ کان بہرے کر دینے والی (قیامت) آجائے گی.[1]
حواشی
[1] قیامت کو صَاخَّةٌ (بہرا کر دینے والی) اس لئے کہا کہ وہ ایک نہایت سخت چیخ کے ساتھ واقع ہوگی جو کانوں کو بہرہ کر دے گی۔
آیت کے اختیارات
- 34
يَوْمَ يَفِرُّ ٱلْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ
اس دن آدمی اپنے بھائی سے.
آیت کے اختیارات
- 35
وَأُمِّهِۦ وَأَبِيهِ
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے.
آیت کے اختیارات
- 36
وَصَـٰحِبَتِهِۦ وَبَنِيهِ
اور اپنی بیوی اور اپنی اوﻻد سے بھاگے گا.
آیت کے اختیارات
- 37
لِكُلِّ ٱمْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ
ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر (دامن گیر) ہوگی جو اس کے لئے کافی ہوگی.[1]
حواشی
[1] یا اپنے اقربا اور احباب سے بے نیاز اور بے پروا کر دے گا۔ حدیث میں آتا ہے ۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ سب لوگ میدان محشر میں ننگے بدن، ننگے پیر، پیدل اور غیر مختون ہوں گے۔ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) نے پوچھا، اس طرح شرم گاہوں پر نظر نہیں پڑے گی ؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اس کے جواب میں یہی آیت تلاوت فرمائی۔ یعنی لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ ( الترمذي تفسير سورة عبس، النسائي، كتاب الجنائز، باب البعث) اس کی وجہ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ انسان اپنے گھر والوں سے اس لئےبھاگے گا تاکہ وہ اس کی وہ تکلیف اور شدت نہ دیکھیں جس میں وہ مبتلا ہوگا۔ بعض کہتے ہیں، اس لئے کہ انہیں علم ہوگا کہ وہ کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور ان کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ (فتح القدیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 38
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ
اس دن بہت سے چہرے روشن ہوں گے.
آیت کے اختیارات
- 39
ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ
(جو) ہنستے ہوئے اور ہشاش بشاش ہوں گے.[1]
حواشی
[1] یہ اہل ایمان کے چہرےہوں گے،جنہیں ان کے اعمال نامے ان کو دائیں ہاتھ میں ملیں گے جس سے انہیں اپنی اخروی سعادت وکامیابی کا یقین ہو جائے گا، جس سے ان کے چہرے خوشی سے تمتما رہے ہوں گے۔
آیت کے اختیارات
- 40
وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ
اور بہت سے چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے.
آیت کے اختیارات
- 41
تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ
جن پر سیاہی چڑھی ہوئی ہوگی.[1]
حواشی
[1] یعنی ذلت اور معائینہ عذاب سے ان کے چہرے غبار آلود، کدورت زدہ اور سیاہ ہوں گے، جیسے محزون اور نہایت غمگین آدمی کا چہرہ ہوتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 42
أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَفَرَةُ ٱلْفَجَرَةُ
وه یہی کافر بدکردار لوگ ہوں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی اللہ کا، رسولوں کا اور قیامت کا انکار کرنے والے بھی تھے اور بدکردار اور بداطوار بھی۔ اللَّهُمَّ! لا تَجْعَلْنَا مِنْهُمْ ۔
آیت کے اختیارات