الانفطار

انفطار

19 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 7

    ٱلَّذِى خَلَقَكَ فَسَوَّىٰكَ فَعَدَلَكَ

    جس (رب نے) تجھے پیدا کیا،[1] پھر ٹھیک ٹھاک کیا[2]، پھر (درست اور) برابر بنایا.[3]

    حواشی

    [1] یعنی حقیر نطفے سے، جب کہ اسے پہلے تیرا وجود نہیں تھا۔ [2] یعنی تجھے ایک کامل انسان بنا دیا، تو سنتا ہے، دیکھتا ہے اور عقل وفہم رکھتا ہے۔ [3] تجھے معتدل، کھڑا اور حسن صورت والا بنایا، یا تیری دونوں آنکھوں، دونوں کانوں، دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں کو برابر بنایا۔ اگر تیرےاعضا میں یہ برابری مناسبت نہ ہوتی تو تیرے وجود میں حسن کے بجائے بےڈھب پن ہو جاتا۔ اسی تخلیق کو دوسرےمقام پر أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ سےتعبیر فرمایا، لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 6 - 8 کی تفسیر

    [6 - 8] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَ٘رَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا: ﴿ فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمطفّفینالمطففين

غلطی کی اطلاع دیں

مزید