الانشقاق

انشقاق

25 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 8

    فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا

    اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا.[1]

    حواشی

    [1] آسان حساب یہ ہے کہ مومن کا اعمال نامہ پیش ہوگا۔ اس کی غلطیاں بھی اس کے سامنے لائی جائیں گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل وکرم سے انہیں معاف فرما دے گا۔ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”جس کا حساب لیا گیا وہ ہلاک ہوگیا“۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا، جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا گیا، اس کا حساب آسان ہوگا۔ مطلب حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کا یہ تھا کہ اس آیت کی رو سے حساب تو مومن کا بھی ہوگا لیکن وہ ہلاکت سےدوچار نہیں ہوگا۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے وضاحت فرمائی ”یہ تو پیشی ہے“۔ یعنی مومن کے ساتھ معاملہ حساب کا نہیں ہوگا، ایک سرسری سی پیشی ہوگی مومن رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے، جس کا مناقشہ ہوا یعنی پوچھ گچھ ہوئی وہ مارا گیا۔ ( صحيح البخاري، تفسير سورة انشقاق ) ایک اور روایت میں حضرت عائشہ (رضی الله عنها) فرماتی ہیں۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) اپنی بعض نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے۔ ”اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا“ (اے اللہ میرا حساب آسان فرمانا) نماز سے فراغت کے بعد میں نے پوچھا، حسابا یسیرا ”آسان حساب“ کا کیا مطلب ہے ؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، اللہ تعالیٰ اس کا اعمال نامہ دیکھے گا اور پھر اسے معاف فرما دے گا۔۔۔ ( مسند احمد،6 / 48 ) ۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 7 - 9 کی تفسیر

    [7 - 9] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابً٘ا یَّسِیْرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّیَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ٘﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسْرُوْرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 8 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتبروجالبروج

غلطی کی اطلاع دیں

مزید