البروج

بروج

22 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 14

    وَهُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلْوَدُودُ

    وه بڑا بخشش کرنے واﻻ اور بہت محبت کرنے واﻻ ہے.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 14 کی تفسیر

    [14] ﴿وَهُوَ الْغَفُوْرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الْوَدُوْدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔ اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا: ﴿یُّحِبُّهُمْ وَیُحِبُّوْنَهٗۤ﴾ (المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔ اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الْوَدُوْدُ﴾کو ﴿الْغَفُوْرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔ بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 14 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتطارقالطارق

غلطی کی اطلاع دیں

مزید