الطارق

طارق

17 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 2

    وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ

    تجھے معلوم بھی ہے کہ وه رات کو نمودار ہونے والی چیز کیا ہے؟

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 4 کی تفسیر

    [1 - 4] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجْمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔ مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنْ كُ٘لُّ نَفْ٘سٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاعلىالأعلى

غلطی کی اطلاع دیں

مزید