الطارق

طارق

17 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 9

    يَوْمَ تُبْلَى ٱلسَّرَآئِرُ

    جس دن پوشیده بھیدوں کی جانچ پڑتال ہوگی.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ظاہر ہو جائیں گے، کیوں کہ ان پر جزا وسزا ہوگی۔ بلکہ حدیث میں آتا ہے ہر غدر ( بدعہدی ) کرنے والے کے سرین کے پاس جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان کر دیا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے۔ (صحيح بخاري، كتاب الجزية، باب إثم الغادر للبر والفاجر- مسلم كتاب الجهاد، باب تحريم الغدر) مطلب یہ ہے کہ وہاں کسی کا کوئی عمل مخفی نہیں رہے گا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 8 - 10 کی تفسیر

    [8 - 10] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا: ﴿یَوْمَ تُ٘بْلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿یَّوْمَ تَ٘بْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ﴾ (آل عمران:3؍106) ’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔ ﴿فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 9 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاعلىالأعلى

غلطی کی اطلاع دیں

مزید