الفجر

فجر

30 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 5

    هَلْ فِى ذَٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِى حِجْرٍ

    کیا ان میں عقلمند کے واسطے کافی قسم ہے.[1]

    حواشی

    [1] ذَلِكَ سے مذکور مقسم بہ اشیا کی طرف اشارہ ہے یعنی کیا ان کی قسم اہل عقل ودانش کے واسطے کافی نہیں ہے ؟ حِجْرٌ کے معنی ہوتے ہیں، روکنا، منع کرنا۔ انسانی عقل بھی انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے، اس لئے عقل کو بھی حجر کہا جاتا ہے، جس طرح اسی مفہوم کے اعتبار سے اسے نھیہ بھی کہتے ہیں۔ جواب قسم یا مقسم علیہ لَتُبْعَثُنَّ ہے کیوں کہ مکی سورتوں میں عقیدے کی اصلاح پر زور دیا گیا ہے۔ بعض کے نزدیک جواب قسم آگے آنے والے الفاظ ”إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ“ ہے۔ آگے بہ طریق استشہاد اللہ تعالیٰ بعض ان قوموں کا ذکر فرما رہاہے جو تکذیب وعناد کی بنا پر ہلاک کی گئی تھیں۔ مقصد اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر تم ہمارے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی تکذیب سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی اسی طرح مواخذہ ہو سکتا ہے، جیسے گزشتہ قوموں کا اللہ نے کیا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 5 کی تفسیر

    [1 - 5] ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے۔ جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے، اس مقام پر بھی اسی طرح ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے، کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔فجر کے وقت ایک نہایت فضیلت اور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کی اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے، اس لیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں۔ کیونکہ یہ راتیں فضیلت والے ایام پر مشتمل ہیں۔ ان راتوں میں ایسی عبادت و قربات واقع ہوتی ہیں جو دوسرے ایام میں نہیں ہوتیں، رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کسی ایک طاق رات میں لیلۃ القدر واقع ہوتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ان کے دنوں میں رمضان کے آخری عشرے کے روزے رکھے جاتے ہیں، جو ارکان اسلام میں سے ایک بہت بڑا رکن ہے۔ اور ذوالحج کے پہلے عشرے میں عرفہ میں وقوف ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مغفرت سے نوازتا ہے جس سے شیطان غمگین ہوتا ہے، شیطان جس قدر حقیر اور دھتکارا ہوا عرفہ کے دن ہوتا ہے، اتنا حقیر اور دھتکارا ہوا کبھی نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ اس روز وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر فرشتوں اور اس کی طرف سے رحمت کو اترتے دیکھتا ہے۔ ان دنوں میں حج اور عمرے کے بہت سے افعال واقع ہوتے ہیں اور یہ اشیاء قابل تعظیم اور اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ ﴿وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ﴾ ’’اور رات کی (قسم) جب جانے لگے۔‘‘ یعنی اس کے گزرنے اور بندوں پر اپنی تاریکی کی چادر تان دینے کے وقت، پس بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت کی بنا پر آرام اور استراحت کرتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں۔ ﴿هَلْ فِیْ ذٰلِكَ﴾ ان مذکورہ چیزوں میں ﴿قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ﴾ عقل مند کے لیے قسم ہے؟ ہاں! اس میں سے کچھ چیزیں ہی اس شخص کے لیے کافی ہیں جو دل بیدار رکھتا ہے اور متوجہ ہو کر کان لگا کر سنتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 5 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتبلدالبلد

غلطی کی اطلاع دیں

مزید