الفجر

فجر

30 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)

تفسیر سورۂ فجر

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 1

    وَٱلْفَجْرِ

    قسم ہے فجر کی![1]

    حواشی

    [1] اس سے مراد مطلق فجر ہے، کسی خاص دن کی فجر نہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 1 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  2. 2

    وَلَيَالٍ عَشْرٍ

    اور دس راتوں کی![1]

    حواشی

    [1] اس سے اکثر مفسرین کے نزدیک ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔ جن کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”عشرہ ذوالحجہ میں کیے گئے عمل صالح اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ حتیٰ کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا پسندیدہ نہیں، سوائے اس جہاد کے جس میں انسان شہید ہی ہو جائے“۔ (البخاري، كتاب العيدين، باب فضل العمل في أيام التشريق)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  3. 3

    وَٱلشَّفْعِ وَٱلْوَتْرِ

    اور جفت اور طاق کی![1]

    حواشی

    [1] اس سے مراد جفت اور طاق عدد ہیں یا وہ معدودات جو جفت اور طاق ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں، کہ یہ دراصل مخلوق کی قسم ہے، اس لئے کہ مخلوق جفت (جوڑا) یا طاق (فرد) ہے۔ اس کے علاوہ نہیں۔ (ایسر التفاسیر)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  4. 4

    وَٱلَّيْلِ إِذَا يَسْرِ

    اور رات کی جب وه چلنے لگے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جب آئے اور جب جائے، کیوں کہ سَيْرٌ (چلنا) آتے، جاتے دونوں صورتوں میں ہوتا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  5. 5

    هَلْ فِى ذَٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِى حِجْرٍ

    کیا ان میں عقلمند کے واسطے کافی قسم ہے.[1]

    حواشی

    [1] ذَلِكَ سے مذکور مقسم بہ اشیا کی طرف اشارہ ہے یعنی کیا ان کی قسم اہل عقل ودانش کے واسطے کافی نہیں ہے ؟ حِجْرٌ کے معنی ہوتے ہیں، روکنا، منع کرنا۔ انسانی عقل بھی انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے، اس لئے عقل کو بھی حجر کہا جاتا ہے، جس طرح اسی مفہوم کے اعتبار سے اسے نھیہ بھی کہتے ہیں۔ جواب قسم یا مقسم علیہ لَتُبْعَثُنَّ ہے کیوں کہ مکی سورتوں میں عقیدے کی اصلاح پر زور دیا گیا ہے۔ بعض کے نزدیک جواب قسم آگے آنے والے الفاظ ”إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ“ ہے۔ آگے بہ طریق استشہاد اللہ تعالیٰ بعض ان قوموں کا ذکر فرما رہاہے جو تکذیب وعناد کی بنا پر ہلاک کی گئی تھیں۔ مقصد اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر تم ہمارے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی تکذیب سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی اسی طرح مواخذہ ہو سکتا ہے، جیسے گزشتہ قوموں کا اللہ نے کیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 5 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  6. 6

    أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ

    کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عادیوں کے ساتھ کیا کیا.[1]

    حواشی

    [1] ان کی طرف حضرت ہود (عليه السلام) نبی بنا کر بھیجے گئے تھے انہوں نے تکذیب کی، بالآخر اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کا عذاب ان پر نازل کیا جو متواتر سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی ( الحاقہ: 7 - 10 ) اور انہیں تہس نہس کرکے رکھ دیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 6 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  7. 7

    إِرَمَ ذَاتِ ٱلْعِمَادِ

    ستونوں والے ارم کے ساتھ.[1]

    حواشی

    [1] إِرَمَ، عَادٍ سے عطف بیان یا بدل ہے۔ یہ قوم عاد کے دادا کا نام ہے۔ ان کا سلسلہ نسب ہے، عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح۔ ( فتح القدیر ) اس کا مقصد یہ وضاحت ہے کہ یہ عاد اولیٰ ہے۔ ذات العماد ( ستونوں والے ) سے اشارہ ہے ان کی قوت وطاقت اور دراز قامتی کی طرف۔ علاوہ ازیں وہ فن تعمیر میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے اور نہایت مضبوط بنیادوں پر عظم الشان عمارتیں تعمیر کرتے تھے۔ ذات العماد میں دونوں مفہوم شامل ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  8. 8

    ٱلَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى ٱلْبِلَـٰدِ

    جس کی مانند (کوئی قوم) ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ان جیسی دراز قامت اور قوت وطاقت والی قوم کوئی اور پیدا نہیں ہوئی۔ یہ قوم کہا کرتی تھی مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ( حم السجدة،: 15 ) (ہم سے زیادہ کوئی طاقت ور ہے) ؟۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 8 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  9. 9

    وَثَمُودَ ٱلَّذِينَ جَابُوا۟ ٱلصَّخْرَ بِٱلْوَادِ

    اور ثمودیوں کے ساتھ جنہوں نے وادی میں بڑے بڑے پتھر تراشے تھے.[1]

    حواشی

    [1] یہ حضرت صالح (عليه السلام) کی قوم تھی، اللہ نے اسے پتھر تراشنے کی خاص صلاحیت وقوت عطا کی تھی، حتیٰ کہ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنی رہائش گاہیں تعمیر کر لیتے تھے، جیسا کہ قرآن نے کہا ہے وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ ( الشعراء: 149 ) ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 9 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  10. 10

    وَفِرْعَوْنَ ذِى ٱلْأَوْتَادِ

    اور فرعون کے ساتھ جو میخوں واﻻ تھا.[1]

    حواشی

    [1] اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے لشکروں والا تھا جس کے پاس میخوں کی کثرت تھی جنہیں میخیں گاڑ کر کھڑا کیا جاتا تھا۔ یا اس سے اس کے ظلم وستم کی طرف اشارہ ہے کہ میخوں کے ذریعے وہ لوگوں کو سزائیں دیتا تھا۔ (فتح القدیر) ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 10 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  11. 11

    ٱلَّذِينَ طَغَوْا۟ فِى ٱلْبِلَـٰدِ

    ان سبھوں نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 11 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  12. 12

    فَأَكْثَرُوا۟ فِيهَا ٱلْفَسَادَ

    اور بہت فساد مچا رکھا تھا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 12 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  13. 13

    فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ

    آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ان پر آسمان سے اپنا عذاب نازل فرما کر ان کو تباہ وبرباد یا انہیں عبرت ناک انجام سےدوچار کر دیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 13 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  14. 14

    إِنَّ رَبَّكَ لَبِٱلْمِرْصَادِ

    یقیناً تیرا رب گھات میں ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی تمام مخلوقات کے اعمال دیکھ رہا ہے اور اس کے مطابق وہ دنیا اور آخرت میں جزا دیتا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 14 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  15. 15

    فَأَمَّا ٱلْإِنسَـٰنُ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ رَبُّهُۥ فَأَكْرَمَهُۥ وَنَعَّمَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّىٓ أَكْرَمَنِ

    انسان (کا یہ حال ہے کہ) جب اسے اس کا رب آزماتا ہے اور عزت ونعمت دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جب اللہ کسی کو رزق ودولت کی فراوانی عطا فرماتا ہے تو وہ اپنی بابت اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے کہ اللہ اس پر بہت مہربان ہے، حالانکہ یہ فراوانی امتحان اور آزمائش کے طور پر ہوتی ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 15 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  16. 16

    وَأَمَّآ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّىٓ أَهَـٰنَنِ

    اور جب وه اس کو آزماتا ہے اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے میری اہانت کی (اور ذلیل کیا).[1]

    حواشی

    [1] یعنی وہ تنگی میں مبتلا کرکے آزماتا ہے تو اللہ کے بارے میں بدگمانی کا اظہار کرتا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 16 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  17. 17

    كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ ٱلْيَتِيمَ

    ایسا ہرگز نہیں[1] بلکہ (بات یہ ہے) کہ تم (ہی) لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے.[2]

    حواشی

    [1] یعنی بات اس طرح نہیں ہے جیسے لوگ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مال اپنے محبوب بندوں کو بھی دیتا ہے اور ناپسندیدہ افراد کو بھی، تنگی میں بھی وہ اپنوں اور بیگانوں دونوں کو مبتلا کرتا ہے۔ اصل مدار دونوں حالتوں میں اللہ کی اطاعت پر ہے۔ جب اللہ مال دے تو اللہ کا شکر کرے، تنگی آئے تو صبر کرے۔ [2] یعنی ان کے ساتھ وہ حسن سلوک نہیں کرتے جس کے وہ مستحق ہیں، نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے ”وہ گھر سب سے بہتر ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور وہ گھر بدترین ہے جس میں اس کے ساتھ بدسلوکی کی جائے۔ پھر انگلی کے ساتھ اشارہ کرکے فرمایا، میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ساتھ ہوں گے جیسے یہ دونگلیاں ساتھ ملی ہوئی ہیں“۔ ( أبو داود، كتاب الأدب، باب في ضم اليتيم)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 17 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  18. 18

    وَلَا تَحَـٰٓضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ

    اور مسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 18 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  19. 19

    وَتَأْكُلُونَ ٱلتُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا

    اور (مردوں کی) میراث سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جس طریقے سے بھی حاصل ہو، حلال طریقے سے یا حرام طریقے سے لَمَّا بمعنی جَمْعًا

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 19 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  20. 20

    وَتُحِبُّونَ ٱلْمَالَ حُبًّا جَمًّا

    اور مال کو جی بھر کر عزیز رکھتے ہو.[1]

    حواشی

    [1] جَمًّا بمعنی كَثِيرًا ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 20 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  21. 21

    كَلَّآ إِذَا دُكَّتِ ٱلْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا

    یقیناً[1] جس وقت زمین کوٹ کوٹ کر برابر کر دی جائے گی.

    حواشی

    [1] یا تمہارا عمل ایسا نہیں ہونا چاہئے جو مذکور ہوا، کیوں کہ ایک وقت آنے والا ہے جب ۔۔۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 21 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  22. 22

    وَجَآءَ رَبُّكَ وَٱلْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا

    اور تیرا رب (خود) آجائے گا اور فرشتے صفیں باندھ کر (آ جائیں گے).[1]

    حواشی

    [1] کہا جاتا ہے کہ جب فرشتے، قیامت والے دن آسمان سے نیچے اتریں گے تو ہر آسمان کے فرشتوں کی الگ صف ہو گی، اس طرح سات صفیں ہوں گی جو زمین کو گھیر لیں گی ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 22 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  23. 23

    وَجِا۟ىٓءَ يَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ وَأَنَّىٰ لَهُ ٱلذِّكْرَىٰ

    اور جس دن جہنم بھی ﻻئی جائے گی[1] اس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر آج اس کے سمجھنے کا فائده کہاں؟[2]

    حواشی

    [1] ستر ہزار لگاموں کے ساتھ جہنم جکڑی ہوئی ہوگی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے۔ (صحيح مسلم، كتاب الجنة، باب في شدة حر نار جهنم وبعد قعرها ترمذي، أبواب صفة جهنم، باب ما جاء في صفة النار) اسے عرش کے بائیں جانب کھڑا کر دیا جائے گا، پس اسے دیکھ کر تمام مقرب اور انبیا علیہم السلام گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور ”يَا رَبِّ! نَفْسِي نَفْسِي“ پکاریں گے۔ (فتح القدیر) ۔ [2] یعنی یہ ہولناک منظر دیکھ کر انسان کی آنکھیں کھلیں گی اور اپنے کفر ومعاصی پر نادم ہوگا، لیکن اس روز اس ندامت اور نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 23 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  24. 24

    يَقُولُ يَـٰلَيْتَنِى قَدَّمْتُ لِحَيَاتِى

    وه کہے گا کہ کاش کہ میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا.[1]

    حواشی

    [1] یہ افسوس اور حسرت کا اظہار، اسی ندامت کا حصہ ہے جو اس روز فائدہ مند نہیں ہوگی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 24 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  25. 25

    فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُۥٓ أَحَدٌ

    پس آج اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کا نہ ہوگا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 25 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  26. 26

    وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُۥٓ أَحَدٌ

    نہ اسکی قید وبند جیسی کسی کی قید وبند ہوگی.[1]

    حواشی

    [1] اس لئے کہ اس روز تمام اختیارات صرف ایک اللہ کےپاس ہوں گے۔ دوسرے، کسی کو اس کے سامنے رائے یا دم زنی نہیں ہوگا حتیٰ کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کی سفارش تک نہیں کر سکے گا۔ ایسے حالات میں کافروں کو جو عذاب ہوگا اور جس طرح وہ اللہ کی قید وبند میں جکڑے ہوں گے، اس کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا چہ جائکہ اس کا کچھ اندازہ ممکن ہو۔ یہ تو مجرموں اور ظالموں کا حال ہوگا لیکن اہل ایمان وطاعت کا حال اس سے بالکل مختلف ہوگا، جیسا کہ اگلی آیات میں ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 26 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  27. 27

    يَـٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفْسُ ٱلْمُطْمَئِنَّةُ

    اے اطمینان والی روح.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 27 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  28. 28

    ٱرْجِعِىٓ إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً

    تو اپنے رب کی طرف[1] لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وه تجھ سے خوش.

    حواشی

    [1] یعنی اس کے اجر وثواب اور ان نعمتوں کی طرف جو اس نے اپنے بندوں کے لئے جنت میں تیار کی ہے۔ بعض کہتے ہیں قیامت والے دن کہا جائے گا بعض کہتے ہیں کہ موت کے وقت بھی فرشتے خوشخبری دیتے ہیں، اسی طرح قیامت والے دن بھی اسے یہ کہا جائے گا جو یہاں مذکور ہے۔ حافظ ابن کثیر نے ابن عسا کرکے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے ایک آدمی کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا، بِكَ مُطْمَئِنَّةً، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ“۔ (ابن كثير)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 28 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  29. 29

    فَٱدْخُلِى فِى عِبَـٰدِى

    پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 29 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  30. 30

    وَٱدْخُلِى جَنَّتِى

    اور میری جنت میں چلی جا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 30 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتبلدالبلد

قرآن کا متن: تنزیل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید