التوبة

توبہ

129 آیاتمدنیپارہ 10

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 129

    فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُلْ حَسْبِىَ ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْعَظِيمِ

    پھر اگر رو گردانی کریں[1] تو آپ کہہ دیجیئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے[2]، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وه بڑے عرش کا مالک ہے۔[3]

    حواشی

    [1] یعنی آپ کی لائی ہوئی شریعت اور دین رحمت سے۔ [2] جو کفر و اعراض کرنے والوں کے مکرو کید سے مجھے بچا لے گا۔ [3] حضرت ابو الدردا(رضي الله عنه) فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ آیت حَسْبِیَ اللّٰہُ (الآیۃَ) صبح اور شام سات سات مرتبہ پڑھ لے گا، اللہ تعالٰی اس کے ہموم (فکر ومشکلات) کو کافی ہو جائے گا۔ (سنن ابی داود۔ نمبر 5081)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 129 کی تفسیر

    [129] ﴿فَاِنْ﴾ ’’پس اگر‘‘ وہ ایمان لے آئیں تو یہ ان کی خوش نصیبی اور توفیق الٰہی ہے۔ اور اگر وہ ﴿ تَوَلَّوْا﴾ ’’پھرجائیں ۔‘‘ یعنی ایمان و عمل سے روگردانی کریں تو آپe اپنے راستے پر گامزن رہیں اور ان کو دعوت دیتے رہیں ۔ ﴿ فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ﴾ ’’اور کہہ دیں ! کہ (تمام امور میں ) میرے لیے اللہ کافی ہے۔‘‘ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ ﴿ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ ﴾ ’’میں نے اسی پر توکل کیا۔‘‘ یعنی امور نافعہ کے حصول اور ضرر رساں امور کو دور ہٹانے کے لیے، میں اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرتا ہوں ﴿ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ﴾ ’’اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ اس عظیم عرش کا رب ہے جو تمام مخلوقات پر سایہ عرش سے کم تر مخلوق کا رب ہونا اولیٰ اور احریٰ ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 129 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتیونسيونس

غلطی کی اطلاع دیں

مزید