التوبة

توبہ

129 آیاتمدنیپارہ 10

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 36

    إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِى كِتَـٰبِ ٱللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ مِنْهَآ أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا۟ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَـٰتِلُوا۟ ٱلْمُشْرِكِينَ كَآفَّةً كَمَا يُقَـٰتِلُونَكُمْ كَآفَّةً ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ

    مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں باره کی ہے، اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا ہے اس میں سے چار حرمت وادب کے ہیں[1] ۔ یہی درست دین ہے[2]، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ﻇلم نہ کرو[3] اور تم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وه تم سب سے لڑتے ہیں[4] اور جان رکھو کہ اللہ تعالی متقیوں کے ساتھ ہے۔

    حواشی

    [1] فی کتاب اللہ سے مراد لوح محفوظ یعنی تقدیر الٰہی ہے۔ یعنی ابتداء آفرینش سے ہی اللہ تعالٰی نے بارہ مہینے مقرر فرمائے ہیں، جن میں چار حرمت والے ہیں جن میں قتال و جدال کی بالخصوص ممانعت ہے۔ اسی بات کو نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے ایسے بیان فرمایا ہے کہ ”زمانہ گھوم گھما کر پھر اسی حالت پر آگیا ہے جس حالت پر اس وقت تھا جب اللہ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی۔ سال بارہ مہینوں کا ہے، جن میں چار حرمت والے ہیں، تین پے درپے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا رجب جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان ہے“۔ (صحيح بخاري، كتاب التفسير ، سورة توبة وصحيح مسلم ، كتاب القسامة ، باب تغليظ تحريم الدماء) زمانہ اسی حالت پر آگیا ہے کا مطلب، مشرکین عرب مہینوں میں جو تاخیر و تقدیم کرتے تھے جس کی تفصیل آگے آرہی ہے اس کا خاتمہ ہے۔ [2] یعنی ان مہینوں کا اسی ترتیب سے ہونا جو اللہ نے رکھی ہے اور جن میں چار حرمت والے ہیں۔ اور یہی حساب صحیح اور عدد مکمل ہے۔ [3] یعنی حرمت والے مہینوں میں قتال کر کے ان کی حرمت پامال کر کے اور اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب کر کے۔ [4] لیکن حرمت والے مہینے گزرنے کے بعد الا یہ کہ وہ لڑنے پر مجبور کر دیں، پھر حرمت والے مہینوں میں بھی تمہارے لئے لڑنا جائز ہوگا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 36 کی تفسیر

    [36] ﴿ اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں ۔ ﴿ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا ﴾ ’’بارہ مہینے ہے‘‘ یہ وہی معروف مہینے ہیں ۔ ﴿ فِیْؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی کتاب میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم قدری میں ۔ ﴿ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ﴾ ’’جس دن اس نے پیدا کیے تھے آسمان اور زمین‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیل و نہار جاری کیے، اس کے اوقات کی مقدار مقرر کی اور اس کو ان بارہ مہینوں میں تقسیم کیا۔ ﴿ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌؔ﴾ ’’ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ‘‘ اور یہ ہیں رجب، ذیقعد، ذوالحج اور محرم... اور ان کے احترام کی وجہ سے ان کو حرام مہینوں سے موسوم کیا گیا ہے۔ نیز ان کو اس وجہ سے بھی حرام مہینے کہا گیا ہے کہ ان میں قتال کرنا حرام ٹھہرایا گیا ہے۔ ﴿فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ﴾ ’’پس ان میں تم اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر بارہ مہینوں کی طرف لوٹتی ہے اور یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس نے ان مہینوں کو بندوں کے لیے وقت کی مقدار کے تعین کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ پس ان مہینوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے معمور رکھا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان پر اس کا شکر ادا کیا جائے۔ نیز یہ کہ اس نے ان مہینوں کو اپنے بندوں (کے مصالح) کے لیے مقرر فرمایا۔ پس اپنے آپ پر ظلم کرنے سے بچو۔ اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر چار حرام مہینوں کی طرف لوٹتی ہو یعنی ان کے لیے ممانعت ہے کہ وہ خاص طور پر ان چار مہینوں میں ظلم کریں ۔ حالانکہ تمام اوقات میں ظلم کرنے کی ممانعت ہے لیکن چونکہ ان چار مہینوں کی حرمت زیادہ ہے اور ان مہینوں میں دوسرے مہینوں کی نسبت ظلم کے گناہ کی شدت بھی زیادہ ہے، اس لیے ان مہینوں میں ظلم کرنے سے بطور خاص منع کیا گیا۔ ان چار مہینوں میں ان علماء کے نزدیک، جو یہ کہتے ہیں کہ حرام مہینوں میں لڑائی کی تحریم منسوخ نہیں ، لڑائی کرنا ممنوع ہے۔ یہ ان مہینوں میں قتال کی تحریم کے بارے میں عام نصوص پر عمل کرتے ہیں ۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ان مہینوں میں قتال کی تحریم منسوخ ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی عمومیت پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ وَقَاتِلُوا الْ٘مُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً﴾ ’’اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں ۔‘‘ یعنی تمام قسم کے مشرکین اور رب العالمین کا انکار کرنے والوں سے لڑو اور لڑائی کے لیے کسی کو مخصوص نہ کرو بلکہ تمام مشرکین اور کفار کو اپنا دشمن سمجھو جیسا کہ تمھارے ساتھ ان کا رویہ ہے۔ وہ اہل ایمان کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور شرارت سے کبھی نہیں چوکتے۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ ﴿ كَآفَّةً﴾ واؤ سے حال ہو، تب معنی یہ ہوگا کہ تم سب اکٹھے ہو کر مشرکین سے جنگ کرو، تب اس صورت میں تمام اہل ایمان پر جہاد کے لیے نکلنا فرض ہے۔ اس احتمال کے مطابق یہ آیت کریمہ، اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً﴾ (التوبۃ: 9؍122) ’’اہل ایمان کے لیے ضروری نہ تھا کہ وہ سارے کے سارے نکل کھڑے ہوتے۔‘‘کے لیے ناسخ قرار پائے گی۔ ﴿ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ﴾ ’’اور جان رکھو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مدد، نصرت اور تائید کے ذریعے سے تقویٰ شعار لوگوں کے ساتھ ہے۔ پس تم اپنے ظاہر و باطن اور اطاعت الٰہی پر قائم رہنے میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کے حریص بنو۔ خاص طور پر کفار کے خلاف قتال کے وقت کیونکہ ایسی صورت حال میں ، جنگ میں شریک کفار دشمنوں کے معاملہ میں مومن سے تقویٰ کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 36 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتیونسيونس

غلطی کی اطلاع دیں

مزید