اگر تم ان (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جبکہ انہیں کافروں نے (دیس سے) نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا جبکہ وه دونوں غار میں تھے جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے[1] ، پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں[2]، اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور بلند وعزیز تو اللہ کا کلمہ[3] ہی ہے، اللہ غالب ہے حکمت واﻻ ہے۔
حواشی
[1] جہاد سے پیچھے رہنے یا اس سے جان چھڑانے والوں سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم مدد نہیں کرو گے تو اللہ تعالٰی تمہاری مدد کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی نے اپنے پیغمبر کی مدد اس وقت بھی کی جب اس نے غار میں پناہ لی تھی اور اپنے ساتھی (یعنی حضرت ابو بکر صدیق رضي الله عنه) سے کہا تھا ”غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے“ اس کی تفصیل حدیث میں آئی ہے۔ ابو بکر صدیق (رضي الله عنه) فرماتے ہیں کہ جب ہم غار میں تھے تو میں نے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) سے کہا اگر ان مشرکین نے (جو ہمارے تعاقب میں ہیں) اپنے قدموں پر نظر ڈالی تو یقینا ہمیں دیکھ لیں گے حضرت نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”يَا أَبَا بَكْرٍ! مَا ظَنُّكَ بِاثْنَينَ اللهُ ثَالِثُهُمَا“ (صحيح بخاري- تفسير سورة التوبة) ”اے ابو بکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ کی مدد اور اس کی نصرت جن کو شامل حال ہے“۔
[2] یہ مدد کی وہ دو صورتیں بیان فرمائی ہیں جن سے اللہ کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی مدد فرمائی گئی۔ ایک سکینت، دوسری فرشتوں کی تائید۔
[3] کافروں کے کلمے سے شرک اور کلمۃ اللہ سے توحید مراد ہے۔ جس طرح ایک حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے۔ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سے پوچھا گیا کہ ایک شخص بہادری کے جوہر دکھانے کے لئے لڑتا ہے، ایک قبائلی عصبیت و حمیت میں لڑتا ہے، ایک اور ریاکاری کے لئے لڑتا ہے۔ ان میں سے فی سبیل اللہ لڑنے والا کون ہے، آپ نے فرمایا ”جو اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو جائے، وہ فی سبیل اللہ ہے“۔ (صحيح بخاري، كتاب العلم ، باب من سأل وهو قائم - عالما جالسا ومسلم، كتاب الإمارة ، باب من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا)
تفسیر سعدی (اردو)
آیات 40 کی تفسیر
[40] اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول محمد مصطفیe کی مدد نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ تم سے بے نیاز ہے تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس نے انتہائی بدترین حالات میں بھی آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا﴾ ’’جب اس کو کافروں نے نکال دیا۔‘‘ جب کفار نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تھا، جب انھوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کی اور وہ اس کی شدید خواہش رکھتے ہیں ۔ آخر انھوں نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ ﴿ ثَانِیَ اثْنَیْنِ﴾ ’’وہ دو میں سے دوسرا تھا‘‘ یعنی نبی کریمe اور ابوبکر صدیقt ﴿ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ ﴾ ’’جب وہ دونوں غار میں تھے‘‘ یعنی جب رسول اللہe اور ابوبکر صدیقt مکہ مکرمہ سے نکل کر مکہ سے نیچے کی طرف واقع غار ثور میں پناہ گزین ہوئے۔ دونوں اس وقت تک غار میں ٹھہرے رہے جب تک کہ ان کی تلاش کا معاملہ ٹھنڈا نہیں پڑ گیا۔ دونوں اصحاب شدید حرج اور مشقت کی حالت میں مبتلا رہے۔ جب ان کے دشمن ان کی تلاش میں ہر طرف پھیل گئے تاکہ ان کو پکڑ کر قتل کر دیں اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نصرت نازل فرمائی جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
﴿ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ﴾ ’’جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے۔‘‘ یعنی جب نبی اکرمe نے اپنے ساتھی حضرت ابوبکرt سے، جبکہ وہ سخت غم زدہ اور قلق کا شکار تھے..... فرمایا: ﴿ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا﴾ ’’غم نہ کھا، اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد، نصرت اور تائید ہمارے ساتھ ہے۔ ﴿فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ ﴾ ’’پس اتاری اللہ نے اپنی طرف سے اس پر سکینت‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ثابت قدمی، طمانیت اور ایسا سکون نازل فرمایا جو دل کی مضبوطی کا باعث ہوتا ہے۔ اس لیے جب آپ کا ساتھی گھبرایا تو آپ نے اس کو پرسکون کرتے ہوئے فرمایا ’’غم نہ کھا، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘﴿ وَاَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا﴾ ’’اور اس کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں کہ تم نے نہیں دیکھیں ‘‘ اور وہ معزز فرشتے تھے جن کو اللہ نے آپ کا محافظ بنا دیا۔
﴿ وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْ٘لٰى﴾ ’’اور کافروں کی بات کو پست کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے کفار کو ساقط اور بے یار و مددگار چھوڑ دیا کیونکہ کفار سخت غضب ناک تھے اور رسول اللہe پر سخت غصہ تھا وہ سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہe کو گرفتار کر کے قتل کر سکتے ہیں ۔ انھوں نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا اور وہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے بلکہ وہ کچھ بھی حاصل نہ کر سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولe کی مدافعت فرما کر آپ کو اپنی نصرت سے نوازا۔ یہی وہ مدد ہے جس کا اس مقام پر ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ مدد کی دو قسمیں ہیں ۔
(۱) جب مسلمان دشمن کو زک پہنچانے کے خواہش مند ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی خواہش اور مقصد کو پورا کرتا ہے اور وہ اپنے دشمن پر غالب آجاتے ہیں ۔
(۲) مدد کی دوسری قسم مستضعفین کی مدد ہے جن کو ان کا طاقتور دشمن نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کے دشمن کو آپ سے دور کر کے اور دشمن سے آپ کا دفاع کر کے آپ کی مدد فرمائی اور شاید مدد و نصرت کی یہ قسم سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول کی مدد کرنا، جب کفار نے دونوں کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تھا.... نصرت کی اسی نوع میں شمار ہوتا ہے۔
﴿ وَكَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا﴾ ’’اور بات تو اللہ ہی کی بلند ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے کلمات قدریہ اور کلمات دینیہ دیگر تمام کلمات پر غالب ہیں ۔ اس مفہوم کی چند دیگر آیات یہ ہیں ۔ ﴿ وَؔكَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ (الروم: 30؍47) ’’اور اہل ایمان کی مدد کرنا ہم پر لازم ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُ﴾ (غافر:40؍51) ’’ہم اپنے رسولوں کی اور ان کی جو ایمان لائے، دنیا کی زندگی میں اور جس روز گواہ (گواہی دینے کے لیے) کھڑے ہوں گے، ضرور مدد کریں گے۔‘‘ ﴿وَاِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ﴾ (الصافات: 37؍173) ’’بے شک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔‘‘پس اللہ تعالیٰ کا دین واضح دلائل، حیرت انگیز آیات اور تائید کرنے والے براہین کے ذریعے سے تمام ادیان پر غالب ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَزِیْزٌ﴾ ’’اور اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب آسکتا ہے، نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ ﴿ حَكِیْمٌ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے۔‘‘ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے وہ کبھی کبھی اپنے گروہ کی مدد کو کسی دوسرے وقت تک موخر کر دیتا ہے جس کا تقاضا حکمت الہیہ کرتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں جناب ابوبکر صدیقt کی فضیلت میں ایک ایسی خصوصیت بیان کی گئی ہے جو اس امت کے کسی اور فرد میں نہیں اور وہ ہے یہ منقبت جلیلہ اور صحبت جمیلہ... اور تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ اس آیت کریمہ سے یہی مراد ہے۔ بنابریں جن لوگوں نے ابوبکر صدیقt کی صحبت کا انکار کیا انھوں نے ظلم و تعدی اور کفر کا ارتکاب کیا کیونکہ اس نے قرآن کا انکار کیا جو اس صحبت کی تصریح کرتا ہے۔
اس آیت کریمہ سے سکینت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ مصیبت اور خوف کے اوقات میں جب دل پریشان ہو جاتے ہیں تو سکینت اللہ تعالیٰ کی نعمت کاملہ ہے۔ یہ نعمت کاملہ بندۂ مومن کو اس کی اپنے رب کی معرفت، اپنے رب کے سچے وعدے پر اعتماد، اپنے ایمان اور اپنی شجاعت کے مطابق عطا ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حزن کبھی کبھار اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں اور صدیقین کو بھی لاحق ہو جاتا ہے۔ بایں ہمہ جب بندۂ مومن پر یہ کیفیت نازل ہو تو بہتر یہ ہے کہ وہ اس کیفیت کو دور کرنے کی کوشش کرے کیونکہ حزن بندے کے دل کو کمزور اور اس کی عزیمت کو پراگندہ کر دیتا ہے۔