التوبة

توبہ

129 آیاتمدنیپارہ 10

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 74

    يَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ مَا قَالُوا۟ وَلَقَدْ قَالُوا۟ كَلِمَةَ ٱلْكُفْرِ وَكَفَرُوا۟ بَعْدَ إِسْلَـٰمِهِمْ وَهَمُّوا۟ بِمَا لَمْ يَنَالُوا۟ ۚ وَمَا نَقَمُوٓا۟ إِلَّآ أَنْ أَغْنَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ مِن فَضْلِهِۦ ۚ فَإِن يَتُوبُوا۟ يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ ۖ وَإِن يَتَوَلَّوْا۟ يُعَذِّبْهُمُ ٱللَّهُ عَذَابًا أَلِيمًا فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ وَمَا لَهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مِن وَلِىٍّ وَلَا نَصِيرٍ

    یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا، حاﻻنکہ یقیناً کفر کا کلمہ ان کی زبان سے نکل چکا ہے اور یہ اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے ہیں[1] اور انہوں نے اس کام کا قصد بھی کیا جو پورا نہ کر سکے[2]۔ یہ صرف اسی بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نے دولت مند کردیا[3]، اگر یہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے، اور اگر منھ موڑے رہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت میں دردناک عذاب دے گا اور زمین بھر میں ان کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ کھڑا ہوگا۔

    حواشی

    [1] مفسرین نے اس کی تفسیر میں متعدد واقعات نقل کئے ہیں، جن میں منافقین نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے جسے بعض مسلمانوں نے سن لیا اور انہوں نے آکر نبی (صلى الله عليه وسلم) کو بتلایا، لیکن آپ کے استفسار پر مکر گئے بلکہ حلف تک اٹھا لیا کہ انہوں نے ایسی بات نہیں کی۔ جس پر یہ آیت اتری۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی شان میں گستاخی کرنا کفر ہے نبی (صلى الله عليه وسلم) کی شان میں گستاخی کرنے والا مسلمان نہیں رہ سکتا۔ [2] اس کی بابت بھی بعض واقعات نقل کئے گئے ہیں۔ مثلاً تبوک کی واپسی پر منافقین نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے خلاف ایک سازش کی جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے کہ دس بارہ منافقین ایک گھاٹی میں آپ کے پیچھے لگ گئے جہاں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) باقی لشکر سے الگ تقریباً تنہا گزر رہے تھے ان کا منصوبہ یہ تھا کہ آپ پر حملہ کر کے آپ کا کام تمام کر دیں گے اس کی اطلاع وحی کے ذریعے سے آپ کو دے دی گئی جس سے آپ نے بچاؤ کر لیا۔ [3] مسلمانوں کی ہجرت کے بعد، مدینہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے وہاں تجارت اور کاروبار کو بھی فروغ ملا، اور اہل مدینہ کی معاشی حالت بہت اچھی ہوگئی تھی۔ منافقین مدینہ کو بھی اس کا خوب فائدہ حاصل ہوا اللہ تعالٰی اس آیت میں یہی فرما رہا ہے کہ کیا ان کو اس بات کی ناراضگی ہے کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے غنی بنا دیا ہے، بلکہ ان کو تو اللہ تعالٰی کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے انہیں تنگ دستی سے نکال کر خوش حال بنا دیا۔ ملحوظہ: اللہ تعالیٰ کے ساتھ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کا ذکر اس لئے ہے کہ اس غنا اور تونگری کا ظاہری سبب رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی ذات گرامی ہی بنی تھی، ورنہ حقیقت میں غنی بنانے والا تو اللہ تعالیٰ ہے تھا۔ اس لئے آیت میں من فضلہ، واحد کی ضمیر ہے کہ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں غنی کردیا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 74 کی تفسیر

    [74] ﴿ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْ٘كُفْرِ ﴾ ’’قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ انھوں نے نہیں کہا اور بے شک کہا ہے انھوں نے لفظ کفر کا‘‘ یعنی جب انھوں نے اس شخص کی مانند بات کہی تھی جس نے یہ کہا تھا ﴿لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ﴾ (المنافقون: 63؍8) ’’عزت دار، ذلیل لوگوں کو مدینہ سے باہر نکال دیں گے۔‘‘اور وہ باتیں جو دین اور رسول (e ) کے ساتھ استہزاء کرتے ہوئے ایک کے بعد دوسرا کرتا تھا۔ جب ان کو یہ بات پہنچی کہ رسول اللہe کو ان کی باتیں معلوم ہوگئی ہیں تو وہ قسمیں اٹھاتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ انھوں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْ٘كُفْرِ وَكَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ ﴾ ’’بے شک کہا ہے انھوں نے لفظ کفر کا اور منکر ہو گئے وہ اسلام لانے کے بعد‘‘ گزشتہ وقت میں ان کے اسلام قبول کرنے نے اگرچہ ان کو ظاہری طور پر دائرہ کفر سے نکال دیا تھا مگر ان کا یہ آخری کلام اسلام کے متناقض ہے جو انھیں کفر میں داخل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَهَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا ﴾ ’’اور انھوں نے ایسی چیز کا ارادہ کیا جو انھیں نہیں ملی‘‘ یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب انھوں نے غزوۂ تبوک میں رسول اللہe کو دھوکے کے ساتھ قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپe کو ان کے منصوبے کے بارے میں آگاہ فرما دیا، چنانچہ آپ نے کسی کو حکم دیا اور اس نے ان کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے سے روک دیا۔ ﴿ وَ ﴾ ان کا حال یہ ہے ﴿ مَا نَقَمُوْۤا ﴾ یعنی ’’وہ رسول اللہe پر صرف اس وجہ سے ناراض ہیں ‘‘ اور آپ کی عیب جوئی کرتے ہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنْ اَغْ٘نٰىهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ٘﴾ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولe نے اللہ کے فضل سے ان کی محتاجی کے بعد ان کو غنی کر دیا۔ یہ نہایت ہی عجیب بات ہے کہ وہ اس ہستی کی اہانت کریں جو ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لانے اور محتاجی کے بعد غنا کا سبب بنی۔ کیا ان پر اس ہستی کا حق نہیں کہ وہ اس کی تعظیم اور توقیر کریں اور اس پر ایمان لائیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے توبہ پیش کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ﴾ ’’پس اگر وہ توبہ کر لیں تو ان کے لیے بہتر ہے‘‘ کیونکہ توبہ دنیا و آخرت کی سعادت کی اساس ہے۔ ﴿ وَاِنْ یَّتَوَلَّوْا ﴾ ’’اور اگر وہ منہ پھیر لیں۔‘‘ یعنی اگر وہ توبہ اور انابت سے منہ موڑ لیں ۔ ﴿ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابً٘ا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ﴾ ’’تو عذاب دے گا اللہ ان کو دردناک عذاب دنیا اور آخرت میں ‘‘ دنیا میں ان کے لیے عذاب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے دین کو فتح و نصرت سے نوازتا ہے اور اپنے نبیe کو عزت عطا کرتا ہے اور یہ لوگ اپنا مقصد حاصل نہیں کر پاتے تو حزن و غم کا شکار ہو جاتے ہیں اور آخرت میں ان کو جہنم کا عذاب ملے گا۔ ﴿ وَمَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ ﴾ ’’اور زمین میں ان کا کوئی دوست نہیں ‘‘ جو ان کے معاملات کی سرپرستی کرے اور ان کو ان کے مقصد تک پہنچائے ﴿ وَّلَا نَصِیْرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار‘‘ جو تکلیف دہ امور کو ان سے دور کرے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی سرپرستی سے محروم ہوگئے تو پھر شر، خسران، بدبختی اور حرمان نصیبی ہی ان کا نصیب بن جاتی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 74 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتیونسيونس

غلطی کی اطلاع دیں

مزید