التوبة

توبہ

129 آیاتمدنیپارہ 10

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 79

    ٱلَّذِينَ يَلْمِزُونَ ٱلْمُطَّوِّعِينَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ فِى ٱلصَّدَقَـٰتِ وَٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ ۙ سَخِرَ ٱللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

    جولوگ ان مسلمانوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جنہیں سوائے اپنی محنت مزدوری کے اور کچھ میسر ہی نہیں، پس یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں[1] ، اللہ بھی ان سے تمسخر کرتا ہے[2] انہی کے لئے دردناک عذاب ہے۔

    حواشی

    [1] مُطَّوِّعِينَ‌ کے معنی ہیں صدقات واجبہ کے علاوہ اپنی خوشی سے مزید اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے،”جہد“ کے معنی محنت ومشقت کے ہیں یعنی وہ لوگ جو مال دار نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود اپنی محنت و مشقت سے کمائے ہوئے تھوڑے مال میں سے بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ آیت میں منافقین کی ایک اور نہایت قبیح حرکت کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ جب رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) جنگ وغیرہ کے موقع پر مسلمانوں سے چندے کی اپیل فرماتے تو مسلمان آپ کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے حسب استطاعت اس میں حصہ لیتے کسی کے پاس زیادہ مال ہوتا وہ زیادہ صدقہ دیتا جس کے پاس تھوڑا ہوتا، وہ تھوڑا دیتا، یہ منافقین دونوں قسم کے مسلمانوں پر طعنہ زنی کرتے زیادہ دینے والوں کے بارے میں کہتے اس کا مقصد ریاکاری اور نمود و نمائش ہے اور تھوڑا دینے والوں کو کہتے کہ تیرے اس مال سے کیا بنے گا یا اللہ تعالٰی تیرے اس صدقے سے بے نیاز ہے (صحيح بخاري، تفسير سورة توبة - مسلم- كتاب الزكاة، باب الحمل أجرة يتصدق بها...) یوں وہ منافقین مسلمانوں کا استہزاکرتے اور مذاق اڑاتے۔ [2] یعنی مومنین سے استہزا کا بدلہ انہیں اس طرح دیتا ہے کہ انہیں ذلیل و رسوا کرتا ہے۔ اس کا تعلق باب مشاکلت سے ہے جو علم بلاغت کا ایک اصول ہے یا یہ بددعا ہے اللہ تعالٰی ان سے بھی استہزا کا معاملہ کرے جس طرح یہ مسلمانوں کے ساتھ استہزا کرتے ہیں۔ (فتح القدیر)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 79 کی تفسیر

    [79] یہ بھی منافقین کی رسوائی کا باعث بننے والی باتوں میں سے ہے ...اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... وہ اسلام اور مسلمانوں کے امور میں کوئی ایسی چیز دیکھتے جس پر زبان طعن دراز کر سکتے ہوں تو وہ ظلم و تعدی سے کام لیتے ہوئے طعن و تشنیع کرنے سے باز نہ آتے۔ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولe نے اہل ایمان کو صدقات کی ترغیب دی تو مسلمانوں نے نہایت تیزی سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور ان میں سے ہر امیر و غریب نے اپنے حسب حال اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کیا۔ پس منافقین دولت مند مسلمانوں پر نکتہ چینی کرتے تھے کہ وہ صرف ریاء اور شہرت کی خاطر اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور کم حیثیت مسلمانوں سے کہتے ’’اللہ تعالیٰ اس صدقہ سے بے نیاز ہے...‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی ﴿ اَلَّذِیْنَ یَلْ٘مِزُوْنَ ﴾ ’’جو عیب جوئی اور طعن کرتے ہیں ‘‘ ﴿الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ ﴾ ’’ان مومنوں پر جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں (ان کے) صدقات میں ۔‘‘ پس کہتے ہیں کہ یہ ریاکار ہیں۔ صدقہ کرنے سے ان کا مقصد صرف ریاکاری اور فخر کا اظہار ہے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور۔‘‘وہ ان لوگوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں ﴿ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ ﴾ ’’جو اپنی محنت کے سوا کچھ نہیں پاتے‘‘ پس وہ اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کے راستے میں (تھوڑا سا) مال نکالتے ہیں ۔ ان کے بارے میں یہ منافقین کہتے ’’اللہ تعالیٰ ان کے صدقات سے بے نیاز ہے۔‘‘﴿ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ﴾ ’’اس طرح وہ ان کا تمسخر اڑاتے ہیں ۔‘‘ ان کے تمسخر کے مقابلے میں ان کے ساتھ تمسخر کیا گیا ﴿ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١ٞ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴾ ’’اللہ نے ان سے تمسخر کیا ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے اس کلام میں متعدد ایسے امور اکٹھے کر دیے ہیں جن سے بچنا ضروری تھا۔ (۱) وہ مسلمانوں کے احوال کی تلاش میں رہتے تھے انھیں یہ خواہش رہتی تھی کہ وہ مسلمانوں کی کوئی ایسی بات پائیں جس پر یہ اعتراض اور نکتہ چینی کر سکیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَ٘شِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴾ (النور: 24؍19) ’’جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ (۲) وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اسلام کے ساتھ بغض کی وجہ سے اہل ایمان پر ان کے ایمان کی وجہ سے زبان طعن دراز کرتے رہتے تھے۔ (۳) طعنہ زنی اور چغل خوری کرنا حرام ہے بلکہ دنیاوی امور میں یہ کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے اور نیکی کے کام میں طعنہ زنی تو سب سے بڑا گناہ ہے۔ (۴) جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو اس کے بارے میں مناسب یہ ہے کہ نیکی کے اس کام میں اس کی اعانت اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے مگر ان منافقین کا مقصد تو صرف اسے نیکی کے کاموں سے باز رکھنا اور اس کی عیب جوئی کرنا تھا۔ (۵) اللہ کے راستے میں مال کثیر خرچ کرنے والے کے بارے میں ان کا یہ فیصلہ کہ وہ ریاکار ہے سخت غلطی، غیب دانی کا دعویٰ اور اٹکل پچو ہے اور اس سے بڑی اور کون سی برائی ہو سکتی ہے؟ (۶) قلیل مقدار میں صدقہ کرنے والے کی بابت ان کا یہ کہنا ’’اللہ تعالیٰ اس صدقہ سے بے نیاز ہے۔‘‘ایک ایسا کلام ہے جس کا مقصود باطل ہے کیونکہ صدقہ خواہ قلیل ہو یا کثیر، اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والے کے صدقہ سے مستغنی ہے بلکہ وہ زمین اور آسمان کے تمام رہنے والوں سے بے نیاز ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے امور کا حکم دیا ہے جن کے وہ خود محتاج ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ.... اگرچہ ان سے بے نیاز ہے لیکن لوگ تو اس کے محتاج ہیں .... فرماتا ہے ﴿فَ٘مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗ﴾ (الزلزال: 99؍7) ’’پس جو ذرہ بھر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا‘‘چنانچہ ان کے اس قول میں نیکی سے باز رہنے کی جو ترغیب ہے، وہ بالکل ظاہر اور بین ہے، لہٰذا ان کی جزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ تمسخر کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 79 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتیونسيونس

غلطی کی اطلاع دیں

مزید