التوبة

توبہ

129 آیاتمدنیپارہ 10

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 8

    كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا۟ عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا۟ فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً ۚ يُرْضُونَكُم بِأَفْوَٰهِهِمْ وَتَأْبَىٰ قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَـٰسِقُونَ

    ان کے وعدوں کا کیا اعتبار ان کا اگر تم پر غلبہ ہو جائے تو نہ یہ قرابت داری کا خیال کریں نہ عہدوپیمان کا[1] ، اپنی زبانوں سے تو تمہیں پرچا رہے ہیں لیکن ان کے دل نہیں مانتے ان میں سے اکثر تو فاسق ہیں۔

    حواشی

    [1] كَيْفَ، پھر بطور تاکید، نفی کے لئے ہے۔ الَّ کے معنی قرابت (رشتہ داری) اور ذِمَّہ کے معنی عہد کے ہیں۔ یعنی ان مشرکین کی زبانی باتوں کا کیا اعتبار، جب کہ ان کا یہ حال ہے کہ اگر تم پر غالب آجائیں تو کسی قرابت اور عہد کا پاس نہیں کریں گے۔ بعض مفسرین کے نزدیک پہلا کیف مشرکین کے لئے ہے اور دوسرے سے یہودی مراد ہیں، کیونکہ ان کی صفت بیان کی گئی ہے کہ اللہ کی آیتوں کو کم قیمت پر بیچ دیتے ہیں۔ اور یہ وطیرہ یہودیوں کا ہی رہا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 8 کی تفسیر

    [8] ﴿ كَیْفَ﴾ ’’کیسے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لیے کیسے عہد و میثاق ہو سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنْ یَّ٘ظْ٘هَرُوْا عَلَیْكُمْ ﴾ ’’کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں ۔‘‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی رحم نہیں کریں گے۔ ﴿ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً﴾ ’’تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہدکا۔‘‘ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمھارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے بلکہ وہ تمھیں بدترین عذاب دیں گے۔ پس اگر وہ غالب آجائیں تو ان کے ساتھ تمھارا یہ حال ہوگا۔ اگر وہ تم سے ڈر کر تمھارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمھیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ ﴿یُرْضُوْنَؔكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَتَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے تمھیں خوش کر دیتے ہیں اور ان کے دل تمھاری طرف میلان اور محبت سے انکار کرتے ہیں ‘‘ بلکہ وہ تمھارے حقیقی دشمن ہیں اور تمھارے ساتھ دلی بغض رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ ﴾ ’’اور ان کے اکثر بدعہد ہیں ‘‘ ان میں کوئی دیانت اور مروت نہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 8 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتیونسيونس

غلطی کی اطلاع دیں

مزید