التوبة

توبہ

129 آیاتمدنیپارہ 10

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 94

    يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ ۚ قُل لَّا تَعْتَذِرُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا ٱللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ ۚ وَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُۥ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَـٰلِمِ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَـٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

    یہ لوگ تمہارے سامنے عذر پیش کریں گے جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے۔ آپ کہہ دیجئے کہ یہ عذر پیش مت کرو ہم کبھی تم کو سچا نہ سمجھیں گے، اللہ تعالیٰ ہم کو تمہاری خبر دے چکا ہے اور آئنده بھی اللہ اور اس کا رسول تمہاری کارگزاری دیکھ لیں گے پھر ایسے کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو پوشیده اور ﻇاہر سب کا جاننے واﻻ ہے پھر وه تم کو بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 94 کی تفسیر

    [94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے دولت مند منافقین کے پیچھے رہنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پیچھے رہنے کے لیے ان کے پاس کوئی عذر نہ تھا اور یہ بھی آگاہ فرمایا: ﴿ یَعْتَذِرُوْنَؔ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ﴾ ’’جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔‘‘ یعنی جب تم ان کے پاس اپنے غزوہ سے واپس لوٹو گے تو یہ منافقین تمھارے پاس معذرت کریں گے۔ ﴿ قُ٘لْ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَ٘نْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ ﴾ ’’تم بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمھاری بات نہیں مانیں گے‘‘ یعنی ہم تمھاری جھوٹی معذرتوں کی تصدیق نہیں کریں گے۔ ﴿ قَدْ نَبَّاَ نَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ﴾ ’’اللہ نے ہمیں تمھارے حالات سے خبردار کر دیا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے قول میں سچا ہے اب معذرت پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ ایسی ایسی معذرتیں پیش کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو آگاہ فرمایا ہے وہ اس کے عین برعکس ہے اور یہ قطعاً محال ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے جھوٹ ہونے کی خبر دے رہا ہے وہ سچ ہو، اللہ تعالیٰ کی خبر تو صداقت کے بلند ترین مرتبے پر ہے۔ ﴿وَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ﴾ ’’اللہ اور اس کا رسول تمھارے اعمال دیکھیں گے۔‘‘ یعنی دنیا میں کیونکہ عمل صداقت کی میزان ہے اور عمل کے ذریعے سے سچ اور جھوٹ میں امتیاز ہوتا ہے۔ رہے مجرد اقوال تو ان کی صداقت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ﴿ ثُمَّؔ تُرَدُّوْنَؔ اِلٰى عٰؔلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ﴾ ’’پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ جس سے کوئی چیز اوجھل نہیں ۔ ﴿ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴾ ’’اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمھیں بتائے گا۔‘‘ یعنی تم برا یا بھلا جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ فرمائے گا اور تم پر ذرہ بھر ظلم کیے بغیر اپنے عدل اور فضل سے تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 94 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتیونسيونس

غلطی کی اطلاع دیں

مزید