التوبة

توبہ

129 آیاتمدنیپارہ 10

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 98

    وَمِنَ ٱلْأَعْرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغْرَمًا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ ٱلدَّوَآئِرَ ۚ عَلَيْهِمْ دَآئِرَةُ ٱلسَّوْءِ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

    اور ان دیہاتیوں میں سے بعض[1] ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو جرمانہ سمجھتے ہیں[2] اور تم مسلمانوں کے واسطے برے وقت کے منتظر رہتے ہیں[3]، برا وقت ان ہی پر پڑنے واﻻ ہے[4] اور اللہ سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے۔

    حواشی

    [1] اب ان دیہاتیوں کی دو قسمیں بیان کی جا رہی ہیں یہ پہلی قسم ہے۔ [2] غُرْم تاوان اور جرمانے کو کہتے ہیں۔ یعنی ایسا خرچ ہو جو انسان کو نہایت ناگواری سے ناچار کرنا پڑ جاتا ہے۔ [3] دَوَائِرُ۔ دَا ئِرَۃ کی جمع ہے، گردش زمانہ یعنی مصائب و آلام یعنی وہ منتظر رہتے ہیں کہ مسلمان زمانے کی گردشوں یعنی مصائب کا شکار ہوں۔ [4] یہ بد دعا یا خبر ہے کہ زمانے کی گردش ان پر ہی پڑے۔ کیونکہ وہی اس کے مستحق ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 98 کی تفسیر

    [98] (۴) بدوی مال و متاع کے زیادہ حریص ہوتے ہیں اور مال کے بارے میں ان میں زیادہ بخل پایا جاتا ہے۔ بدویوں ہی میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ﴿ مَنْ یَّؔتَّؔخِذُ مَا یُنْفِقُ ﴾ ’’جو سمجھتے ہیں اس کو جسے وہ خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زکاۃ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کو ﴿ مَغْرَمًا ﴾ ’’تاوان‘‘ یعنی خسارہ اور نقصان اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اخروی ثواب نہیں چاہتے اور بہت ناگواری سے زکاۃ و صدقات ادا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَّیَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآىِٕرَ﴾ ’’اور انتظار کرتے ہیں وہ تم پر زمانے کی گردشوں کا‘‘ یعنی اہل ایمان کے ساتھ اپنے بغض اور عداوت کی بنا پر وہ تمھارے بارے میں گردش ایام اور مصائب زمانہ کے منتظر ہیں مگر یہ گردش ایام الٹا انھی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ﴿ عَلَیْهِمْ دَآىِٕرَةُ السَّوْءِ ﴾ ’’یہ بری مصیبت انھی پر واقع ہوگی۔‘‘ رہے اہل ایمان تو ان کے لیے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی اور ان کا انجام اچھا ہے ﴿ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ ﴾ ’’اور اللہ علم رکھنے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ وہ بندوں کی نیتوں کو خوب جانتا ہے اور بندوں سے جو اعمال اخلاص کے ساتھ اور اخلاص کے بغیر صادر ہوتے ہیں وہ ان سے بھی آگاہ ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 98 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتیونسيونس

غلطی کی اطلاع دیں

مزید