الشمس

شمس

15 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 14

    فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنۢبِهِمْ فَسَوَّىٰهَا

    ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں[1] ، پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعث ان پر ہلاکت ڈالی[2] اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو برابر کردیا.[3]

    حواشی

    [1] یہ کام ایک ہی شخص قدار نے کیا تھا۔ لیکن چوں کہ اس شرارت میں قوم بھی اس کے ساتھ تھی اس لئے اس میں سب کو برابر کا مجرم قرار دیا گیا۔ اور تکذیب اور اونٹنی کی کوچیں کاٹنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کی گئی۔ جس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ ایک برائی کا ارتکاب کرنے والے اگر چند ایک افراد ہوں لیکن پوری قوم اس برائی پر نکیر کرنے کے بجائے اسےپسند کرتی ہو تو اللہ کے ہاں پوری قوم اس برائی کی مرتکب قرار پائے گی اور اس جرم یا برائی میں برابر کی شریک سمجھی جائے گی۔ [2] دَمْدَمَ عَلَيْهِمْ ، ان کو ہلاک کر دیا اور ان پر سخت عذاب نازل کیا۔ [3] عام کر دیا، یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا، کسی کو نہیں چھوڑا، چھوٹا بڑا، سب کو نیست ونابود کر دیا گیا۔ یا زمین کو ان پر برابر کر دیا یعنی سب کو تہ خاک کر دیا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 11 - 15 کی تفسیر

    [11 - 15] ﴿كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا: ﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقْیٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا: ﴿فَعَقَرُوْهَا١۪ۙ ۬ فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا یَخَافُ عُقْبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 14 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتلیلالليل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید