الشمس

شمس

15 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 4

    وَٱلَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰهَا

    قسم ہے رات کی جب اسے ڈھانﭗ لے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور ہر سمت اندھیرا چھا جائے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 6 کی تفسیر

    [1 - 6] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَالشَّ٘مْسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالْ٘قَ٘مَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتلیلالليل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید