الليل

لیل

21 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 20

    إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ ٱلْأَعْلَىٰ

    بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ وبلند کی رضا چاہنے کے لئے.[1]

    حواشی

    [1] بلکہ اخلاص سے اللہ کی رضا اور جنت میں اس کے دیدار کے لئے خرچ کرتا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 17 - 21 کی تفسیر

    [17 - 21] ﴿ وَسَیُجَنَّبُهَا الْاَتْ٘قَىۙ۰۰الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔ آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہe کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔ پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰى ۚ۰۰وَلَسَوْفَ یَرْضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 20 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتضحىالضحى

غلطی کی اطلاع دیں

مزید