الشرح

شرح

8 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 1

    أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ

    کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا.[1]

    حواشی

    [1] گزشتہ سورت میں تین انعامات کا ذکر تھا، اس سورت میں مزید تین احسانات جتلائے جا رہے ہیں۔ سینہ کھول دینا، ان میں پہلا ہے۔ اس کا مطلب ہے سینے کا منور اور فراخ ہو جانا، تاکہ حق واضح بھی ہو جائے اور دل میں سما بھی جائے۔ اسی مفہوم میں قرآن کریم کی یہ آیت فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ (سورة الأنعام: 125 ) ”جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے نوازنے کا ارادہ کرے۔ اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے“۔ یعنی وہ اسلام کو دین حق کے طور پرپہچان بھی لیتا ہے اور اسے قبول بھی کر لیتا ہے۔ اس شرح صدر میں وہ شق صدر بھی آجاتا ہے جو معتبر روایات کی رو سے دو مرتبہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا کیا گیا۔ ایک مرتبہ بچپن میں، جب کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) عمر کے چوتھے سال میں تھے۔ حضرت جبرائیل (عليه السلام) آئے اور انہوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کا دل چیرا اور اس سے وہ حصہ شیطانی نکال دیا جو ہر انسان کے اندر ہے، پھر اسے دھوکر بند کر دیا، ( صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الإسراء) دوسری مرتبہ معراج کے موقعے پر۔ اس موقعے پر آپ (صلى الله عليه وسلم) کا سینہ مبارک چاک کرکے دل نکالا گیا، اسے آپ زمزم سے دھوکر اپنی جگہ رکھ دیا گیااور اسےایمان وحکمت سے بھر دیا گیا۔ (صحيحين، أبواب المعراج وكتاب الصلاة) ۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 4 کی تفسیر

    [1 - 4] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولe پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں کی تسہیل کے لیے کیا ہم نے آپ کے سینے کو کشادہ نہیں کر دیا؟ پس (آپ کا سینہ) تنگ اور گھٹا ہوا نہیں تھا کہ آپ کسی بھلائی پر عمل نہ کرتے اور نہ ایسا تھا کہ آپ ان کو انبساط کی حالت میں بہت کم پاتے۔ ﴿وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ سے آپ کے گناہ کا بوجھ اتار دیا ﴿الَّذِیْۤ اَنْقَ٘ضَ﴾ ’’جس نے توڑ رکھا تھا۔‘‘ یعنی بوجھل کیا ہوا تھا ﴿ظَهْرَكَ﴾ ’’آپ کی کمر کو۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّ٘یَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ﴾ (الفتح:48؍2) ’’تاکہ جو گناہ آپ سے پہلے سرزد ہوئے اور جو پیچھے سرزد ہوئے، ان سب کو اللہ بخش دے۔‘‘ ﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ کی قدر و منزلت بلند کی، ہم نے آپ کو ثنائے حسن اور ذکر بلند سے سرفراز کیا جہاں آج تک مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں پہنچ سکی۔ پس جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ رسول اللہe کا ذکر کیا جاتا ہے، مثلاً: اسلام میں داخل ہوتے وقت، اذان اور اقامت کے اندر، خطبوں اور دیگر امور میں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیe کا ذکر بلند کیا ہے۔ امت کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کے لیے جو محبت، تعظیم اور اجلال ہے وہ کسی اور کے لیے نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی امت کی طرف سے افضل ترین جزائے خیر عطا کرے جو کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطا کی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 1 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتینالتين

غلطی کی اطلاع دیں

مزید