الشرح

شرح

8 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 2

    وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ

    اور تجھ پر سے تیرا بوجھ ہم نے اتار دیا.[1]

    حواشی

    [1] یہ بوجھ نبوت سے قبل چالیس سالہ دور زندگی سے متعلق ہے۔ اس دور میں اگرچہ اللہ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو گناہوں سے محفوظ رکھا، کسی بت کے سامنے آپ (صلى الله عليه وسلم) سجدہ ریز نہیں ہوئے، کبھی شراب نوشی نہیں کی اور بھی دیگر برائیوں سے دامن کش رہے، تاکہ معروف معنوں میں اللہ کی عبادت واطاعت کا نہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کو علم تھا نہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے کی۔ اس لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) کے دل ودماغ پر اس چالیس سالہ عدم عبادت وعدم اطاعت کا بوجھ تھا، جو حقیقت میں تو نہیں تھا، لیکن آپ (صلى الله عليه وسلم) کے احساس وشعور نے اسے بوجھ بنا رکھا تھا۔ اللہ نے اسے اتار دینے کا اعلان فرما کر آپ (صلى الله عليه وسلم) پر احسان فرمایا۔ یہ گویا وہی مفہوم ہے جو لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ (سورة الفتح) کا ہے۔ بعض کہتے ہیں، یہ نبوت کا بوجھ تھا، جسے اللہ نے ہلکا کر دیا، یعنی اس راہ کی مشکلات برداشت کرنے کا حوصلہ اور تبلیغ ودعوت میں آسانیاں پیدا فرما دیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 4 کی تفسیر

    [1 - 4] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولe پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں کی تسہیل کے لیے کیا ہم نے آپ کے سینے کو کشادہ نہیں کر دیا؟ پس (آپ کا سینہ) تنگ اور گھٹا ہوا نہیں تھا کہ آپ کسی بھلائی پر عمل نہ کرتے اور نہ ایسا تھا کہ آپ ان کو انبساط کی حالت میں بہت کم پاتے۔ ﴿وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ سے آپ کے گناہ کا بوجھ اتار دیا ﴿الَّذِیْۤ اَنْقَ٘ضَ﴾ ’’جس نے توڑ رکھا تھا۔‘‘ یعنی بوجھل کیا ہوا تھا ﴿ظَهْرَكَ﴾ ’’آپ کی کمر کو۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّ٘یَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ﴾ (الفتح:48؍2) ’’تاکہ جو گناہ آپ سے پہلے سرزد ہوئے اور جو پیچھے سرزد ہوئے، ان سب کو اللہ بخش دے۔‘‘ ﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ کی قدر و منزلت بلند کی، ہم نے آپ کو ثنائے حسن اور ذکر بلند سے سرفراز کیا جہاں آج تک مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں پہنچ سکی۔ پس جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ رسول اللہe کا ذکر کیا جاتا ہے، مثلاً: اسلام میں داخل ہوتے وقت، اذان اور اقامت کے اندر، خطبوں اور دیگر امور میں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیe کا ذکر بلند کیا ہے۔ امت کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کے لیے جو محبت، تعظیم اور اجلال ہے وہ کسی اور کے لیے نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی امت کی طرف سے افضل ترین جزائے خیر عطا کرے جو کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطا کی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتینالتين

غلطی کی اطلاع دیں

مزید