التين

تین

8 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)

تفسیر سورۂ تین

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

بِّسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 1

    وَٱلتِّينِ وَٱلزَّيْتُونِ

    قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 1 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  2. 2

    وَطُورِ سِينِينَ

    اور طور سِینِین کی.[1]

    حواشی

    [1] یہ وہی کوہ طور ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (عليه السلام) سے ہم کلام ہوا تھا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  3. 3

    وَهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ ٱلْأَمِينِ

    اور اس امن والے شہر کی.[1]

    حواشی

    [1] اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جس میں قتال کی اجازت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں جو اس میں داخل ہو جائے، اسے بھی امن حاصل ہو جاتا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دراصل تین مقامات کی قسم ہے، جن میں سے ہر ایک جگہ میں جلیل القدر، صاحب شریعت پیغمبر مبعوث ہوا۔ انجیر اور زیتون سے مراد وہ علاقہ ہے جہاں اس کی پیداوار ہے اور وہ ہے بیت المقدس، جہاں حضرت عیسیٰ (عليه السلام) پیغمبر بن کر ائے۔ طور سینا یا سینین پر حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو نبوت عطا کی گئی اور شہر مکہ میں سید الرسل حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی بعثت ہوئی۔ ابن کثیر ) ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  4. 4

    لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ فِىٓ أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ

    یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا.[1]

    حواشی

    [1] یہ جواب قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس کا منہ نیچے کو جھکا ہوا ہے صرف انسان کو دراز قامت، سیدھا بنایا ہے جو اپنے ہاتھوں سے کھاتا پیتاہے۔ پھر اس کے اعضا کو نہایت تناسب کے ساتھ بنایا، ان میں جانوروں کی طرح بےڈھنگا پن نہیں ہے۔ ہر اہم عضو دو دو بنائے اور ان میں نہایت مناسب فاصلہ رکھا، پھر اس میں عقل وتدبر، فہم وحکمت اور سمع وبصر کی قوتیں ودیعت کیں، جو دراصل یہ انسان اللہ کی قدرت کا مظہر اور اس کا پر تو ہے۔ بعض علما نے اس حدیث کوبھی اسی معنی ومفہوم پر محمول کیا ہے، جس میں ہے کہ إِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ ( مسلم، كتاب البر والصلة والآداب ) اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت میں پیدا فرمایا انسان کی پیدائش میں ان تمام چیزوں کا اہتمام ہی احسن تقویم ہے، جس کا ذکر اللہ نے تین قسموں کے بعد فرمایا۔ (فتح القدیر)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  5. 5

    ثُمَّ رَدَدْنَـٰهُ أَسْفَلَ سَـٰفِلِينَ

    پھر اسے نیچوں سے نیچا کر دیا.[1]

    حواشی

    [1] یہ اشارہ انسان کے ارذل عمر ( بہت زیادہ عمر ) کی طرف۔ جس میں جوانی اور قوت کے بعد بڑھاپا اور ضعف آجاتا ہے اور انسان کی عقل اور ذہن بچے کی طرح ہو جاتا ہے۔ بعض نے اس سے کردار کا وہ سفلہ پن لیا ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان انتہائی پست اور سانپ بچھو سے بھی زیادہ گیا گزرا ہو جاتا ہے اور بعض نے اس سے ذلت ورسوائی کا وہ عذاب مراد لیا ہے جو جہنم میں کافروں کے لئے ہے۔ گویا انسان اللہ اور رسول کی اطاعت سے انحراف کرکے اپنے کو احسن تقویم کے بلند رتبہ واعزاز سے گرا کر جہنم کی اسفل سافلین میں ڈال لیتا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 5 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  6. 6

    إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ

    لیکن جو لوگ ایمان ﻻئے اور (پھر) نیک عمل کیے تو ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا.[1]

    حواشی

    [1] آیت ماقبل کے پہلے مفہوم کے اعتبار سے یہ جملہ مبینہ ہے، مومنوں کی کیفیت بیان کر رہا ہے اور دوسرے تیسرے مفہوم کے اعتبار سے، ماقبل کی تاکید ہے کہ اس انجام سے اس نے مومنوں کا استثنا کردیا۔ ( فتح القدیر ) ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 6 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  7. 7

    فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِٱلدِّينِ

    پس تجھے اب روز جزا کے جھٹلانے پر کون سی چیز آماده کرتی ہے.[1]

    حواشی

    [1] یہ انسان سے خطاب ہے، زجر وتوبیخ کے لئے۔ کہ اللہ نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا اور وہ تجھے اس کے برعکس قعر مذلت میں بھی گرانے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے لئے دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔ اس کے بعد بھی تو قیامت اور جزا کا انکار کرتا ہے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  8. 8

    أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِأَحْكَمِ ٱلْحَـٰكِمِينَ

    کیا اللہ تعالیٰ (سب) حاکموں کا حاکم نہیں ہے.[1]

    حواشی

    [1] جو کسی پر ظلم نہیں کرتا اور اس کے عدل ہی کا یہ تقاضا ہے کہ وہ قیامت برپا کرے اور ان کی داد رسی کرے جن پر دنیا میں ظلم ہوا۔ پہلے گزر چکا ہے کہ ایک ضعیف حدیث میں اس کا یہ جواب دینا منقول ہے۔ بَلَى، وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ ) ( الترمذي ) ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 8 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتعلقالعلق

قرآن کا متن: تنزیل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید