التين

تین

8 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 7

    فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِٱلدِّينِ

    پس تجھے اب روز جزا کے جھٹلانے پر کون سی چیز آماده کرتی ہے.[1]

    حواشی

    [1] یہ انسان سے خطاب ہے، زجر وتوبیخ کے لئے۔ کہ اللہ نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا اور وہ تجھے اس کے برعکس قعر مذلت میں بھی گرانے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے لئے دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔ اس کے بعد بھی تو قیامت اور جزا کا انکار کرتا ہے؟

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 7 - 8 کی تفسیر

    [7، 8] ﴿فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالـدِّیْنِ﴾ پس اے انسان! کون سی چیز اس کے بعد تجھے اعمال کی جزا وسزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے، حالانکہ تو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نشانیوں کو دیکھ چکا ہے جن سے تجھے یقین حاصل ہو سکتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ چکا ہے جو تجھ پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ تو ان میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرے جن کی اس نے تجھے خبر دی ہے۔ ﴿اَلَ٘یْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰؔكِمِیْنَ﴾ ’’کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟‘‘ کیا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ مخلوق کو بے کار اور مہمل چھوڑ دیا جائے، ان کو حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے؟ یا وہ جس نے بنی نوع انسان کو کئی مراحل میں پیدا کیا، ان کو اتنی نعمتوں، بھلائیوں اور احسانات سے نوازا جن کو وہ شمار نہیں کر سکتے، بہترین طریقے سے ان کی پرورش کی ، ضرور ان کو اس کی طرف لوٹائے گا جو ان کا ٹھکانا اور ان کی غایت و انتہا ہے جس کا وہ قصد کرتے ہیں اور جس کی طرف وہ ارادہ رکھتے ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتعلقالعلق

غلطی کی اطلاع دیں

مزید