الزلزلة

زلزلہ

8 آیاتمدنیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 8

    وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُۥ

    اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا.[1]

    حواشی

    [1] وہ اس پرسخت پشیمان اور مضطرب ہوگا۔ ذَرَّةٍ بعض کے نزدیک چیونٹی سے بھی چھوٹی چیز ہے۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں، انسان زمین پر ہاتھ مارتا ہے، اس سے اس کے ہاتھ پرجو مٹی لگ جاتی ہے، وہ ذرہ ہے۔ بعض کےنزدیک سوراخ سے آنے والی سورج کی شعاعوں میں گرد وغبار کے جو ذرات نظر آتے ہیں، وہ ذرہ ہے۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے معنی کو اولیٰ کہا ہے۔ امام مقاتل کہتے ہیں کہ یہ سورت ان دو آمیوں کے بیان میں نازل ہوئی ہے۔ جن میں سے ایک شخص، سائل کو تھوڑا سا صدقہ دینے میں تامل کرتا اور دوسرا شخص چھوٹا گناہ کرنے میں کوئی خوف محسوس نہ کرتا تھا۔ (فتح القدیر) ۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 7 - 8 کی تفسیر

    [7، 8] ﴿ فَ٘مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ۰۰وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ﴾ ’’پس جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘ یہ خیر و شر کے تمام اعمال کو شامل ہے، کیونکہ جب وہ ذرہ برابر وزن کو دیکھ سکے گا جو حقیر ترین چیز ہے، اسے اس کی جزا بھی دی جائے گی، تب وہ اعمال جو وزن میں اس سے زیادہ ہوں گے ان کا دکھا دینا تو زیادہ اولیٰ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یَوْمَ تَجِدُ كُ٘لُّ٘ نَ٘فْ٘سٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛ ۖ ۚ و َّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَبَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا ﴾ (آل عمران:3؍30) ’’جس دن ہر شخص اپنے بھلائی کے عمل اور برائی کے عمل کو موجود پائے گا، اور تمنا کرے گا کہ کاش! برائیوں اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی۔‘‘ ﴿وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ﴾ (الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے تھے ان کو موجود پائیں گے۔‘‘ ان آیات میں بھلائی کے فعل کی ترغیب ہے، خواہ وہ بہت ہی تھوڑا ہو اور برائی کے فعل پر ترہیب ہے، خواہ وہ بہت معمولی ہی ہو۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 8 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتعادیاتالعاديات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید