حدیث

اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن اللهَ يَرفعُ بهذا الكِتابِ أقْواماً ويَضَعُ به آخَرِينَ».

ترجمہ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔“

تشریح

عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے"۔ یعنی جو لوگ اس قرآن کو سیکھتے ہیں، اس کی تلاوت کرتے اور پڑھتے ہیں، ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں بلندیاں عطا فرماتا ہے اور بعض کو دنیا و آخرت میں ذلیل کرتا ہے۔ جو قرآنی کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرکے اس کی احکامات پر عمل کرتا ہے اور نواہی سے بچتا ہے، اس سے راہ نمائی حاصل کرتا ہے، اس کے بیان کردہ اخلاق فاضلہ کے مطابق خود کو ڈھالتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بلندیاں عطا کرتا ہے؛ کیوںکہ یہی قرآن اصل علم، علم کا سرچشمہ اور پورا علم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿یرفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾ ”اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے، جو ایمان ﻻئے ہیں اور جو علم دیے گئے ہیں، درجے بلند کر دے گا اور آخرت میں اس کے ذریعے بہت ساری قوموں کو نعمتوں والی جنت میں بلندیاں عطا کریں گے۔ جہاں تک ان لوگوں کی بات ہے، جنھیں اللہ قرآن کے ذریعے ذلیل کرتا ہے، تو یہ وہ لوگ ہیں، جو اس کی تلاوت بہتر انداز میں کرتے ہیں؛ لیکن اس سے تکبر کرتے ہیں، اس کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق نہیں کرتے، اس کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، اس کی خبروں کو جان بوجھ کر جھٹلاتے ہیں، جیسے گزشتہ انبیا کے واقعات یا آخرت کے بارے میں قرآن کی خبریں وغیرہ۔ ان تمام امور میں شک و شبہ کی روش اپناتے ہیں-والعیاذ باللہ- اور دل سے یقین نہیں کرتے۔ بسا اوقات ان کا یہ جان بوجھ کر انکار کا رویہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے بھی اس کا انکار کرتے ہیں، اس کے احکامات سے روگردانی کرتے ہیں، اوامر پر عمل نہیں کرتے اور نہ ہی ممنوعات سے بچتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں رسوا کرے گا۔ والعیاذ باللہ!

تشریح: العربية

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواماً ويضع به آخرين"، يعني: معناه أن هذا القرآن يأخذه أناس يتلونه ويقرءونه، فمنهم من يرفعه الله به في الدنيا والآخرة، ومنهم من يضعهم الله به في الدنيا والآخرة، من عمل بهذا القرآن تصديقاً بأخباره، وتنفيذاً لأوامره واجتناباً لنواهيه، واهتداء بهديه، وتخلقاً بما جاء به من أخلاق -وكلها أخلاق فاضلة-، فإن الله تعالى يرفعه به في الدنيا والآخرة، وذلك لأن هذا القرآن هو أصل العلم ومنبع العلم وكل العلم، وقد قال الله تعالى: (يرفع الله الذين آمنوا منكم والذين أوتوا العلم درجات)، أما في الآخرة فيرفع الله به أقواماً في جنات النعيم. وأما الذين يضعهم الله به فقوم يقرءونه ويحسنون قراءته، لكنهم يستكبرون عنه -والعياذ بالله- لا يصدقون بأخباره، ولا يعملون بأحكامه يستكبرون عنه عملاً، ويجحدونه خبراً إذا جاءهم شيء من القرآن كقصص الأنبياء السابقين أو غيرهم أو عن اليوم الآخر أو ما أشبه ذلك صاروا والعياذ بالله يشككون في ذلك ولا يؤمنون، وربما يصل بهم الحال إلى الجحد مع أنهم يقرءون القرآن، وفي الأحكام يستكبرون لا يأتمرون بأمره ولا ينتهون بنهيه، هؤلاء يضعهم الله في الدنيا والآخرة، والعياذ بالله.

  • الحث على الاهتمام بكتاب الله تلاوة وحفظاً وفهماً وعملاً.
  • العلم يرفع صاحبه في الدنيا والآخرة، ما لا يرفعه المال ولا الملك ولا غيرهما.
  • الأمة المسلمة عزها وشرفها بتمسكها بدينها، والقيام بحق كتابها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید