حدیث

جب تک تمہارا دل لگا رہے تب تک قرآن پڑھتے رہو اور جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگو تو اٹھ کھڑے ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن جندب بن عبد الله رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اقرؤوا القرآنَ ما ائْتَلَفت قلوبُكم، فإذا اختلفْتُم فقوموا عنه».

ترجمہ

جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تک تمہارا دل لگا رہے تب تک قرآن پڑھتے رہو اور جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگو تو اٹھ کھڑے ہو“۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: تب تک قرآن پڑھتے رہو جب تک تمہارا دل اس میں لگا رہے، اور جب اس کے معانی سمجھنے میں تمہارے مابین اختلاف پیدا ہونے لگے تو اس کے پاس سے اٹھ جاؤ تا کہ یہ اختلاف تمہیں شر میں مبتلا نہ کر دے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ قرآن کا جو حصہ محکم ہے اس کو تھام لو اور جب کوئی متشابہ آیت سامنے آ جائے جو اختلاف کا باعث ہوتی ہے تو اس میں مشغول ہونے سے احتراز کرو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ حکم ہو کہ جب تک دل متوجہ رہیں تب تک پڑھتے رہو اور جب دل اكتاہٹ کا شکار ہونے لگیں تو قرآن کی تلاوت چھوڑ دی جائے تا وقتیکہ نشاط اور توجہ دوبارہ لوٹ آئے جیسا کہ نماز کے بارے میں یہی حکم آیا ہے۔ پہلا احتمال زیادہ راجح ہے۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: اقرؤوا القرآن ما دامت قلوبكم مجتمعة عليه، فإذا اختلفتم في فهم معانيه فتفرقوا عنه؛ لئلا يتمادى بكم الاختلاف إلى الشر، ويحتمل أن يكون المعنى: تمسكوا بالمحكم منه، فإذا عرض المتشابه الذي هو موجب للاختلاف فأعرضوا عن الخوض فيه، كما يحتمل أن يكون المراد: الأمر بالقراءة ما دامت القلوب مقبلة، فإذا سئمت وملت تركت إلى وقت النشاط والإقبال، كما وقع مع الأمر بنظير ذلك في الصلاة. والاحتمال الأول أقرب.

  • الأمر بالقيام عند الاختلاف في القرآن محمول عند العلماء على اختلاف لا يجوز, لئلا يتمادى الاختلاف إلى الشر, أو هو محمول على المتشابه, فإذا عرض المتشابه الذي يوجب الاختلاف، فالواجب الإعراض عن الخوض فيه.
  • الحث على الألفة والتحذير من الفرقة في الدين.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید