حدیث

خضر کا نام خضر اس لیے پڑا کہ وہ خشک اور بے آب و گياہ زمین پر بیٹھے تو وہ ان کے نیچےسر سبز وشاداب ہو گئی

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إنَّما سُمِّيَ الخَضِرُ أنَّه جلس على فَرْوَة بيضاء، فإذا هي تهتزُّ مِنْ خَلْفِه خَضْراء».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "خضر کا نام خضر اس لیے پڑا کہ وہ خشک اور بے آب و گياہ زمین پر بیٹھے تو وہ ان کے نیچےسر سبز وشاداب ہو گئی"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ خضر کا نام خضر اس لیے پڑا، کیونکہ وہ خشک اور بے آب و گياہ زمین پر بیٹھے تو وہ ان کے نیچےسر سبز وشاداب ہو گئی, کیونکہ اس جگہ سبز گھاس اور ہریالیاں اگ آئیں۔ خضر کا ذکر قرآن کی سورہ الکہف میں موسی علیہ السلام کے قصے میں آیا ہے۔ علما کا اس بات میں اختلاف ہے کہ وہ نبی تھے یا صالح ولی اور صحیح بات یہ ہے کہ وہ نبی تھے۔

تشریح: العربية

يخبر النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الحديث أن الخضر إنما سُمِّي بهذا الاسم؛ لأنه جلس على أرض يابسة ليس فيها نبات، فإذا هي تهتز من خلفه خضراء؛ لما نبت فيها من عشب أخضر، والخضر جاء ذكره في القرآن الكريم في قصة موسى في سورة الكهف، وقد اختلف العلماء هل هو نبي أو ولي صالح، والصحيح أنه نبي.

  • في الحديث بيان لسبب تسمية الخضر بهذا الاسم, كما فيه كرامة ظاهرة له.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید