ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن الزُّبير بن العَوَّام رضي الله عنه قال: كان على النبي صلى الله عليه وسلم دِرْعان يوم أحد، فنهض إلى الصَّخرة فلم يستطع، فأَقعد طلحة تحته، فصعد النبي -صلى الله عليه وسلم عليه- حتى استوى على الصخرة، فقال: سمعتُ النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «أَوْجِبْ طلحة».
ترجمہ
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُحد کے دن رسول اللہ ﷺ دو زرہیں پہنے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ ایک چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن چڑھ نہ سکے تو آپ ﷺ نے اپنے نیچے طلحہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور اوپر چڑھنے لگے، یہاں تک کہ چٹان پرسیدھے کھڑے ہوگئے۔ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: طلحہ نے اپنے لیے (جنت) واجب کرلی۔
تشریح
نبی ﷺ نے غزوۂ احد کے دن دشمنوں کے نیزوں اور تیروں سے بچنے کے لیے لوہے سے بنی دو قمیصیں پہن رکھی تھیں۔ آپ ﷺ ایک چٹان کی طرف جانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ اس پر چڑھنا چاہتے تھے، لیکن نہیں پا رہے تھے۔ اس پر طلحہ رضی اللہ عنہ آکر نبی ﷺ کے نیچے بیٹھ گئے۔ نبی ﷺ ان پر سوار ہو کر چٹان پرچڑھ گئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: "طلحہ نے واجب کر لی۔" یعنی طلحہ نے اپنے اس عمل کی وجہ سے یا غزوۂ احد میں انھوں نے جو کچھ کیا، اس کی وجہ سے اپنے لیےجنت واجب کر لی اور اپنے عمل کی وجہ سے اس کے حق دار ہو گئے۔
تشریح: العربية
كان النبي صلى الله عليه وسلم يلبس قميصين من حديد؛ لحمايته من طعنات الأعداء في غزوة أحد، فقام متوجها لصخرة؛ ليصعد عليها فلم يستطع، فجاء طلحة رضي الله عنه فقعد تحت النبي صلى الله عليه وسلم فصعد عليه حتى صعد على الصخرة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «أوجب طلحة»؛ أي: أن طلحة قد أثبت لنفسه بعمله هذا أو بما فعل في ذلك اليوم الجنة، واستحقها بما عمل.
- فيه إشارة إلى جواز المبالغة في أسباب حماية النفس، وأنه لا ينافي التوكل والتسليم بالقدر.
- فيه فضيلة ظاهرة لطلحة.