حدیث

ایک رات میں دو وتر نہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن قيس بن طلق، قال: زارنا طلْق بن علي في يوم من رمضان، وأَمْسى عندنا، وأفطر، ثم قام بنا الليلة، وأَوْتَرَ بنا، ثم انحدر إلى مسجده، فصلى بأصحابه، حتى إذا بقي الوتر قَدَّمَ رجلا، فقال: أَوْتِرْ بأصحابك، فإني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لا وِتْرَانِ في ليلة».

ترجمہ

قیس بن طلق سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: طلق بن علی رضی اللہ عنہ رمضان میں ایک دن ہمارے ہاں آئے، ہمارے ہی یہاں شام کی، افطار کیا، ہمیں اس رات نماز پڑھائی، وتر بھی پڑھائے پھر اپنی مسجد کی طرف چلے گئے، وہاں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی اور جب وتر باقی رہ گیا، تو ایک شخص کو آگے کر دیا اور کہاکہ اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ ، بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ، آپ فرماتے تھے: ”ایک رات میں دو وتر نہیں“ (یعنی دو بار وتر نہیں)۔

تشریح

صحابی جلیل طلق بن علی رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اپنے فعل سے یہ بیان کر رہے ہیں کہ انھوں نے ایک دفعہ رات کے ابتدائی جصے میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ وتر پڑھا، پھر اپنی قوم کے لوگوں کو نماز پڑھائی، لیکن وتر نہیں پڑھایا، بلکہ وتر کے لیے کسی اور کو آگے کر دیا۔ انھوں نے ایسا اس لیے کیا تھا؛ کیوں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ کوئی آدمی ایک رات میں دو وترپڑھے۔

تشریح: العربية

يبين لنا الصحابي الجليل طلق بن علي رضي الله عنه في الحديث الشريف من فعله بأنه أوتر أول الليل بأهله، ثم صلى بقومه ولم يوتر بل قدم غيره في الوتر؛ وذلك لأنه سمع نهياً من النبي صلى الله عليه وسلم بأن يوتر الإنسان مرتين في ليلة واحدة.

  • جواز الصلاة بعد الوتر، وأنَّ النَّبيَّ -صلى الله عليه وسلم- بعد أن أوتر صلى ركعتين، وأنَّ الشفع بعد الوتر لا ينقضه.
  • يدل الحديث على كراهية الإيتار في الليلة الواحدة مرتين فأكثر؛ لأنَّ تكرير الوتر في ليلة واحدة عبادة لم تُشرع، ولا يعبد الله -تعالى- إلاَّ بما شرع.
  • من أراد أن يصلي مع الإمام حتى تنتهي صلاته؛ تحصيلاً لفضيلة قوله -صلى الله عليه وسلم-: "من قام مع الإمام حتى ينصرف، فكأنما قام ليله"، وأراد أن يحصل على فضيلة الوتر آخر الليل، فإنَّه إذا سلم الإمام قام وأتى بركعة، تشفع له صلاته مع الإمام.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید