ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن شَقيق، قال: قُلت لعائشة: هل كان النبي صلى الله عليه وسلم يُصلِّي الضُّحَى؟ قالت: «لا، إلا أن يَجِيء من مَغِيبِه».
ترجمہ
عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نےعائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔
تشریح
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے چاشت کی نماز سے متعلق سوال کیا گیا کہ آیا آپ ﷺ نے اسے پڑھا ہے یا نہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے چاشت کی نماز نہیں پڑھی ہے، سوائے اس کے کہ آپ سفر سے واپس آتے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ چاشت کی نماز مداومت سے نہیں پڑھتے تھے؛ بلکہ کبھی پڑھتے تھے اور کبھی نہیں پڑھتے تھے۔ ہمیشہ نہ پڑھنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کو خوف تھا کہ کہیں یہ آپ کی امت پر فرض نہ کردی جائے۔ جیسا کہ اس بات پر دیگراحادیث دلالت کرتی ہیں۔ البتہ دوسری احادیث کی بنیاد پر ایک مسلمان کے لیے اسے ہمیشہ پڑھنا بھی جائز ہے۔
تشریح: العربية
سئلت عائشة رضي الله عنها في هذا الحديث عن صلاته صلى الله عليه وسلم للضُّحى، هل كان يصلِّيها أم لا؟ فأجابت بأنه صلى الله عليه وسلم لم يكن يصلِّي الضُّحى إلا في حال رجوعه من سَفره، وهذا يدل على أنه صلى الله عليه وسلم لم يكن يواظب على صلاة الضَّحى، بل يصليها في أحوال دون أحوال، وعدم مواظبته عليها كانت خشية منه أن تُفرض على أُمَّته، كما دلت عليه الأحاديث الأخرى، ويجوز للمسلم أن يواظب عليها لأحاديث أخرى أيضا.
- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- لم يكن يواظب على صلاة الضُّحى, ويحمل ذلك على أنه شُغل عنها, أو خاف أن تفرض على أمته, جمعا بين الأحاديث.
- استفتاء عائشة -رضي الله عنها-؛ لأنها أعلم النساء بأحواله البيتية -صلى الله عليه وسلم-.
- أنَّه -صلى الله عليه وسلم- كان يصلي الضحى إذا قدم من سفر.
- جواز استفتاء الرجل للمرأة ومشروعية أخذه العلم عنها.