ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن زَيد بن أرْقَم رضي الله عنه : أنه رأى قوما يصلُّون من الضُّحى، فقال: أمَا لقد عَلِموا أن الصلاة في غير هذه السَّاعة أفضل، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال: «صلاة الأَوَّابِين حين تَرْمَضُ الفِصَال».
ترجمہ
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو فرمایا: کیا انھیں معلوم نہیں کہ یہ نماز اس وقت کے علاوہ میں افضل ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اوّابین کی نماز کا وقت وہ ہے، جب اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدت گرمی کی وجہ سے جلنے لگیں“۔
تشریح
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو بتایا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اوابین کی نماز کا وقت وہ ہے، جب اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدتِ گرمی کی وجہ سے جلنے لگيں۔ یعنی چاشت کی نماز کا اول وقت وہ ہے ، جب سورج کافی اونچا ہو جائے اور اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدتِ گرمی کی وجہ سے جلنے لگيں۔ یہی وہ وقت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے مطیع و فرماں بردار اور اس کی طرف رجوع کرنے والے بندے چاشت کی نماز ادا کرتے ہیں۔
تشریح: العربية
رأى زيد بن أرقم رضي الله عنه بعض الناس يصلِّي الضُّحى، فذكر أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: صلاة الأوابين حين تَرْمضُ الفِصَال، أي أن أفضل وقت لصلاة الضحى هو عند شدة ارتفاع الشمس، حين تحترق خفاف صغار الإبل من شِدِّة حَرِّ الشمس على الأرض، فهذا هو الوقت الذي يصلي فيه المطيعون لله تعالى كثيرو الرجوع إليه صلاة الضحى.
- استحباب صلاة الضُّحَى .
- أن أفضل أوقات صلاة الضحى: عند اشتداد حرارة الأرض من وقوع الشمس على الرَّمل وغيره.