حدیث

فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو ، فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جسے سب سے زیادہ قرآن یاد ہو، وہ امامت کرے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أيوب، عن أبي قلابة، عن عمرو بن سَلِمة، قال -أي أيوب-: قال لي أبو قلابة: ألا تلقاه فتسأله؟ -أي تسأل عمرو بن سلمة- قال فلقيته فسألته فقال: كنا بماء ممر الناس، وكان يمرُّ بنا الرُّكبان فنسألهم: ما للناس، ما للناس؟ ما هذا الرجل؟ فيقولون: يزعم أن الله أرسله، أوحى إليه، أو: أوحى الله بكذا، فكنتُ أحفظ ذلك الكلام، وكأنما يَقَرُّ في صدري، وكانت العرب تَلَوَّم بإسلامهم الفتح، فيقولون: اتركوه وقومه، فإنه إن ظهر عليهم فهو نبي صادق، فلما كانت وقعة أهل الفتح، بادَر كلُّ قوم بإسلامهم، وبَدَر أبي قومي بإسلامهم، فلما قدم قال: جئتكم والله من عند النبي صلى الله عليه وسلم حقا، فقال: «صَلُّوا صلاة كذا في حين كذا، وصَلُّوا صلاة كذا في حين كذا، فإذا حضرت الصلاة فليؤذِّن أحدكم، وليَؤمَّكم أكثركم قرآنا». فنظروا فلم يكن أحد أكثر قرآنا مني، لما كنت أتلقى من الرُّكبان، فقدَّموني بين أيديهم، وأنا ابن ست أو سبع سنين، وكانت علي بُرْدة، كنت إذا سجدت تَقَلَّصت عني، فقالت امرأة من الحي: ألا تُغَطُّوا عنا اسْتَ قارئكم؟ فاشتروا فقطعوا لي قميصا، فما فرحتُ بشيء فرحي بذلك القميص.

ترجمہ

ایوب، ابوقلابہ سے اور ابوقلابہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں؛ ایوب نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے کہا: عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ قصہ کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ ابوقلابہ نے کہا کہ پھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے (یہ واقعہ) پوچھا، تو انھوں نے بتایا کہ جاہلیت میں ہمارا قیام ایک چشمے پر تھا، جہاں عام راستہ تھا۔ قافلے ہمارے قریب سے گزرتے، تو ہم ان سے پوچھتے کہ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ اس شخص کا کیا معاملہ ہے ؟ (یہ اشارہ نبی کریم ﷺ کی طرف ہوتا تھا) لوگ بتاتے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انھیں اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور ان پر وحی نازل کیا ہے یا اللہ نے ان پر یہ آیت اتاری ہے۔ چنانچہ میں فوراً اسے یاد کر لیتا۔ ان کی باتیں میرے دل پر اثر کرتی تھیں۔ ادھر سارے عرب والے فتح مکہ پر اپنے اسلام کو موقوف کیے ہوئے تھے؛ ان کا کہنا تھا کہ اس نبی کو اور اس کی قوم (قریش) کو نمٹنے دو ، اگر وہ ان پر غالب آ گئے، تو واقعی وہ سچے نبی ہیں۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہو گیا، تو (عرب کی) قومیں اسلام لانے میں ایک دوسرے سے سبقت کرنے لگیں۔ میرے والد نے بھی اسلام قبول کرنے کے معاملے میں اپنی قوم پر سبقت کی۔ پھر جب (مدینے) سے واپس آئے تو (لوگوں سے) کہا: اللہ کی قسم! میں ایک سچے نبی کے پاس سے آ رہا ہوں۔ انھوں نے فرمایا ہے: فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو ، فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جسے سب سے زیادہ قرآن یاد ہو، وہ امامت کرے۔ لوگوں نے غور و خوض کیا، تو قبیلے میں کوئي مجھ سے زیادہ قرآن یاد کرنے والا نہیں ملا؛ کیوں کہ میں آنے جانے والے قافلوں سے سن کر قرآن مجید یاد کر لیا کرتا تھا۔ چنانچہ مجھے لوگوں نے امام بنادیا ، حالاں کہ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال تھی۔ میرے جسم میں ایک چادر تھی۔ جب میں (اسے لپیٹ کر) سجدہ کرتا، تو چھوٹی پڑ جاتی۔ چنانچہ قبیلے کی ایک عورت نے کہا: تم اپنے قاری کی شرم گاہ تو پہلے چھپا دو۔ آخر انھوں نے کپڑا خریدا اور میرے لیے ایک قمیص بنائی۔ میں جتنا خوش اس قمیص سے ہوا، اتنا کسی اور چیز سے نہیں ہو سکا۔

تشریح

ایوب سختیانی کہتے ہیں: مجھ سے ابوقلابہ جرمی نے کہا کہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ قصہ کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ ابوقلابہ کہتے ہیں کہ پھر میں ان کی خدمت میں گیا اور یہ (قصہ) دریافت کیا۔ انھوں نے کہا کہ جاہلیت میں ہمارا قیام ایک چشمہ پر تھا، جہاں عام راستہ تھا۔ قافلے ہمارے قریب سے گزرتے، تو ہم ان سے پوچھتے کہ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ اس شخص کا کیا معاملہ ہے؟ ( یہ اشارہ نبی کریم ﷺ کی طرف ہوتا تھا) لوگ بتاتے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انھیں اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور ان پر وحی اتاری ہے یا اللہ نے ان پر یہ وحی کی ہے۔ وہ آپ سے سنا ہوا قرآن کا کوئی حصہ سنا دیتے اور میں اسے فوراً اچھی طرح یاد کر لیتا۔ ان کی باتیں میرے دل کو لگتی تھیں۔ ادھر سارے عرب والے انتظار میں تھے۔ وہ فتح مکہ تک اسلام قبول کرنے سے گریز کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نبی کو اور اس کی قوم (قریش) کو آپس میں نمٹنے دو، اگر وہ ان پر غالب آ گئے تو واقعی وہ سچے نبی ہیں۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہو گیا، تو ہر قوم نے اسلام لانے میں جلدی کی۔ میرے والد نے اپنی قوم میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ جب (مدینے) سے واپس آئے، تو کہا: اللہ کی قسم! میں ایک سچے نبی کے پاس سے آ رہا ہوں۔ انھوں نے فرمایا ہے:’’فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو، فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور امامت وہ کرے، جسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہو‘‘۔ لوگوں نے غور و فکر کیا تو کوئی شخص قبیلے میں مجھ سے زیادہ قرآن یاد رکھنے والا نہیں ملا۔ کیوں کہ میں آنے جانے والے قافلوں سے سن کر قرآن مجید یاد کر لیا کرتا تھا۔ چنانچہ مجھے لوگوں نے امام بنادیا، حالاں کہ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال تھی۔ میرے جسم پر ایک چادر تھی۔ جب میں (اسے لپیٹ کر) سجدہ کرتا، تو وہ چھوٹی پڑ جاتی۔ چنانچہ قبیلے کی ایک عورت نے کہا: تم اپنے قاری کی شرم گاہ تو پہلے چھپا دو۔ آخر انھوں نے کپڑا خریدا اور میرے لیے ایک قمیص بنائی۔ میں جتنا خوش اس قمیص سے ہوا، اتنا کسی اور چیز سے نہیں ہو سکا۔ اس حدیث سے نماز میں سترعورت کے شرط نہ ہونے کی دلیل نہیں لی جا سکتی؛ کیوں کہ یہ حقیقت حال کا بیان ہے۔ ممکن ہے یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہو جب انھیں ستر عورت کے حکم کا علم ہی نہ رہا ہو۔

تشریح: العربية

قال أيوب السختياني: قال لي أبو قلابة الجرمي: ألَا تلقى عمرو بن سلمة فتسأله عن الأحاديث التي عنده. قال: فلقيت عمرو بن سلمة فسألته، فقال عمرو بن سلمة: كنا بموضع ننزل به وكان موضع مرور الناس، وكان يمر بنا الركاب فنسألهم عن النبي صلى الله عليه وسلم وعن حال العرب معه، فيقولون يزعم أن الله أرسله، وأوحى إليه بكذا مما سمعوه من القرآن، فكنت أحفظ ذلك القرآن حفظًا متقنًا كأنه يُلصق في صدري، وكانت العرب تنتظر ولا تسلم حتى تُفتح مكة، فيقولون: اتركوه وقومه قريشا فإنه إن انتصر عليهم فهو نبي صادق. فلما فُتحت مكة أسرع كل قوم بإسلامهم، وأسرع أبي فأسلم أول قومه، وذهب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما جاء من عنده قال: جئتكم والله من عند النبي صلى الله عليه وسلم حقا، وأخبرهم أنه صلى الله عليه وسلم قال لهم: صلوا صلاة كذا في وقت كذا، وصلوا صلاة كذا في وقت كذا، وإذا حضرت الصلاة فليؤذن أحدكم، وليؤمكم أكثركم حفظًا للقرآن. فنظروا فلم يكن أحد أكثر حفظًا للقرآن مني، لما كنت أتلقى الركاب وأحفظ منهم القرآن، فقدموني أصلي بهم وكان عمرى حينئذ ست أو سبع سنين، وكان عليَّ ثوب قصير كنت إذا سجدت انجمع عليَّ وانكشف عني، فقالت امرأة من قومي: ألا تغطوا عنا عورة قارئكم. فاشتروا لي قميصا فما فرحت بشيء فرحي بذلك القميص. ولا يستدل بهذا الحديث على عدم شرط ستر العورة في الصلاة لأنها واقعة حال فيحتمل أن يكون ذلك قبل علمهم بالحكم.

  • جواز إمامة الصبي المميز في الفريضة.
  • الأحق بالإمامة الأكثر حفظاً للقرآن .
  • مشروعية الأذان.
  • أن القرآن سبب لرفعة الإنسان، وعلو مقامه في الدنيا والآخرة.
  • أن التمييز يكون بالسادسة أو السابعة بحسب قوة إدراك الصبي.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید