حدیث

اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری نظر میں نور پیدا فرما، میرے کان میں نور پیدا فرما، میری دائیں طرف نور پیدا کر ، میری بائیں طرف نور پیدا کر ، میرے اوپر نور پیدا کر ، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر ، میرے پیچھے نور پیدا کر اور مجھے نور عطا فرما۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: بِتُّ عند ميمونة، فقام النبي صلى الله عليه وسلم فأتى حاجَتَه، فغسل وجهه ويديه، ثم نام، ثم قام، فأَتى القِرْبَة فأطلق شِنَاقَهَا، ثم توضأ وضوءا بين وضوءين لم يُكْثِرْ وقد أبلغ، فصلى، فقمت فَتَمَطَّيْتُ؛ كراهية أن يرى أني كنت أَتَّقِيهِ، فتوضأت، فقام يصلي، فقمت عن يساره، فأخذ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عن يمينه، فَتَتَامَّت صلاته ثلاث عشرة ركعة، ثم اضطجع فنام حتى نَفَخ، وكان إذا نام نَفَخ، فَآذَنَهُ بلال بالصلاة، فصلَّى ولم يتوضأ، وكان يقول في دعائه: «اللهم اجعل في قلبي نورا، وفي بَصري نورا، وفي سمعي نورا، وعن يميني نورا، وعن يساري نورا، وفَوْقِي نورا، وتحتي نورا، وأمامي نورا، وخلفي نورا، واجعل لي نورا».

ترجمہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (ایک مرتبہ) میں نے میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری، تو نبی ﷺ اٹھے اور قضائے حاجت سے فارغ ہوکر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے۔ پھر نیند سے بیدار ہوئے، مشکیزے کے پاس آئے، اس کا منہ بند کھولا، درميانہ وضو کیا، یعنی زیادہ پانی بھی نہیں بہایا اور اسے (تمام اعضا تک) پہنچا بھی دیا۔ پھر نماز پڑھنے لگے۔ میں آہستگی کے ساتھ اٹھا، کیوں کہ مجھے یہ ناپسند تھا کہ آپ ﷺ یہ سمجھیں کہ میں آپ پرﷺ نظریں لگائے بیٹھا تھا۔ میں نے وضو کیا۔ آپ ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ ﷺ نے میرے کان سے مجھے پکڑا اور گھما کر اپنی دائیں جانب کر دیا۔ آپ ﷺ کی نماز تیرہ رکعت میں مکمل ہوئی۔ پھر آپ ﷺ لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے سانسوں کی آواز آنے لگی۔ آپ ﷺ جب سوتے تھے تو آپ ﷺ کے سانس کی آواز آیا کرتی تھی۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو نماز کا وقت ہونے کی اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور (اس کے لیے نیا) وضو نہیں کیا۔ آپ ﷺ اپنی دعا میں یہ کلمات کہہ رہے تھے: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْنِي نُورًا“ اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری نظر میں نور پیدا فرما، میرے کان میں نور پیدا فرما، میری دائیں طرف نور پیدا کر، میری بائیں طرف نور پیدا کر، میرے اوپر نور پیدا کر، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر، میرے پیچھے نور پیدا کر اور مجھے نور عطا فرما۔

تشریح

اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ وہ اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات کو سوئے، جو نبی ﷺ کی زوجہ ہیں۔ ”فأتى حاجَتَه“ یعنی آپ ﷺ بول و براز وغیرہ سے فارغ ہوئے۔ ”فغسل وجهه ويديه، ثم نام“ قضائے حاجت کے بعد آپ ﷺ نے حصول بشاشت کے لیے اپنے چہرۂ انور کو اور صفائی کے لیے اپنے ہاتھوں کو دھویا۔ ”ثم قام، فأتى القِرْبَة فأطْلَق شِنَاقَهَا“ یعنی نبی ﷺ نیند سے بیدار ہونے کے بعد مشکیزے کی طرف گئےاور اس رسی کو کھولا، جس سے مشکیزے کا منہ باندھا جاتا ہے؛ تاکہ اس میں موجود پانی وغیرہ محفوظ رہے۔ ”ثم توضأ“ یعنی جیسے آپ نماز کے لیے وضوکرتے تھے، ویسے وضو فرمایا۔ ”وضُوءًا بَيْن وضُوءَيْنِ“ یعنی ایسا وضو کیا، جس میں نہ تو کوئی کمی تھی اور نہ مبالغہ، بلکہ یہ دونوں کے درمیان تھا۔ اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”لم يُكْثِرْ“ یعنی تین تین دفعہ دھونے سے کم ہی پر آپ ﷺ نے اکتفا کر لیا۔ ایسا کرنا جائز ہے، اگرچہ سنت تین دفعہ دھونا ہے۔ ”وقد أَبْلَغَ“ اور اچھی طرح سے وضوکیا بایں طور کہ پانی کو ہر اس مقام تک پہنچایا، جہاں اس کا پہنچانا ضروری تھا اور اتنا کرنا واجب ہے۔ ”فصلَّى“ یعنی رات کی نماز (نماز تہجد) ادا کی۔ ”فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ“ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کو یہ سب کچھ کرتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ پھر وہ دراز ہو گئے اور جس حالت میں تھے اس کے برعکس ظاہر کیے، تاکہ نبی ﷺ کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ آپ ﷺ کو دیکھ رہے تھے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں: "كراهية أن يرى أني كنت أَتَّقِيهِ" (یعنی مجھے یہ ناپسند تھا کہ آپ ﷺ یہ خیا ل کریں کہ) میں آپ ﷺ کو تاک رہا تھا اور آپ ﷺ کے افعال کو دیکھ رہا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دراز ہونے اور ایسا ظاہر کرنے کا مقصد یہی تھا۔ انھوں نے ایسا اس لیے کیا کہ عام طور پر انسان جب اپنے گھر میں اکیلا ہوتا ہے، تو کچھ ایسے افعال کرتا ہے، جن پر دوسروں کا مطلع ہونا وہ ناپسند کرتا ہے۔ یا پھر ان کو یہ ڈر لاحق ہو گیا کہ کہیں ان کو اپنی طرف دیکھتا ہوا پا کر نبی ﷺ اپنے کسی عمل کو چھوڑ نہ دیں، جیسا کہ آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ ﷺ اپنے بعض اعمال کو اس اندیشے کے پیش نظر چھوڑ دیا کرتے تھے کہ کہیں وہ آپ ﷺ کی امت پر فرض نہ ہو جائیں۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے اس فعل کے ذریعے سے اپنے آپ کو مخفی رکھنا چاہا؛ تاکہ انھیں آپ ﷺ کے بیدار ہونے سے لے کر نماز فجر کے لیے بلانے والے کے آنے تک کے تمام امور کا تفصیلی علم ہو جائے۔ ایسا انھوں نے اصل ماخذ (یعنی نبی ﷺ) سے حصول علم کی حرص میں کیا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے وضو کیا۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: میں نے اسی طرح وضوکیا، جیسے آپ ﷺ نے کیا تھا۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے: میں نے اٹھ کر وہی کچھ کیا، جو آپ ﷺ نے کیا تھا۔ ”فقام يصلي فَقُمْتُ عن يساره“ یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جب دیکھا کہ آپ ﷺ نے نماز شروع کر دی ہے، تو انھوں نے بھی وضو کیا اور نبی ﷺ کے ساتھ جا کر مل گئے۔ تاہم وہ نبی ﷺ کی بائیں جانب کھڑے ہوئے۔ ”فأخذ بِأُذُنِي“ یعنی نبی ﷺ نے ان کا کان پکڑ کر انھیں بائیں جانب سے گھما کر دائیں جانب کر دیا۔ ایک اور روایت میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر اسے مروڑنے لگے۔ آپ ﷺ نے پہلے اپنا ہاتھ رکھا؛ تا کہ کان کو پکڑ سکیں یا (اتفاقا) ہاتھ کان ہی پر پڑا تھا یا پھر آپ ﷺ نے ایسا اس لیے کیا کہ اس کی وجہ سے ان پر برکت کا نزول ہو اور وہ اس مجلس میں نیز اس کے علاوہ دیگر مجالس میں آپ ﷺ کے تمام افعال مبارکہ کو یاد رکھ سکیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے کان کو مروڑا۔ آپ ﷺ نے ایسا یا تو سنت کی مخالفت پر تنبیہ کے لیے کیا یا پھر اس لیے کیا تا کہ وہ آپ ﷺ کے جملہ افعال کو ذہن نشین کرنے کے لیے اور زیادہ چاق و چوبند ہو جائیں یا پھر آپ ﷺ نے ان پر طاری اونگھ کے آثار کو دور کرنے کے لیے یا انھیں بائیں طرف سے دائیں طرف گھمانے کے لیے ایسا کیا یا ایسا کرنے سے مقصود ان کے ساتھ اظہار انسیت تھا، کیوں کہ یہ سب کچھ رات کے اندھیرے میں ہو رہا تھا، جیسا کہ بخاری شریف میں موجود ایک روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی تصریح کی ہے۔ یا پھر آپ ﷺ نے ایسا انھیں بیدار رکھنے کے لیے یا ان سے اظہار محبت کے لیے کیا تھا؛ کیوں کہ کم سنی کی وجہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حالت اس کا تقاضا کرتی تھی۔ ”فَأَدَارَنِي عن يمينه“ یعنی آپ ﷺ نے انھیں اپنی بائیں جانب سے گھما کر دائیں طرف کر دیا۔ جب امام کے ساتھ ایک ہی مقتدی ہو، تو اس کے کھڑے ہونے کی جگہ یہی ہوتی ہے۔ ”فَتَتَامَّت صلاته“ اس کی تفسیر میں انھوں نے کہا: ”ثلاث عشرة ركعة“ یعنی نبی ﷺ نے اس رات بشمول وتر کی ایک رکعت کے تیرہ رکعتیں پڑھیں، جن میں آپ ﷺ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے، جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے: ”آپ ﷺ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے“۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم دونوں میں موجود ایک اور روایت میں ہے: ”پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں اور پھر وتر پڑھا“، يعنی دو ركعتوں سے الگ ایک رکعت پڑھی، کیوں کہ آپ ﷺ نے چھ دفعہ دو دو رکعتیں پڑھی تھیں اور ہر دو رکعتوں کے مابین فاصلہ کیا تھا۔ اس طرح وتر کی ایک رکعت کے علاوہ بارہ رکعتیں ہو گئیں اور آپ ﷺ کی مکمل نماز تیرہ رکعتیں بن گئی۔ چنانچہ وترکی صرف ایک ہی رکعت ہوئی۔ ”ثم اضطجع فنام حتى نَفَخ“ یعنی آپ ﷺ آواز کے ساتھ سانس لے رہے تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کو آپ کے سانس نکلنے کی آوز سنائی دے رہی تھی۔ آپ ﷺ جب سویا کرتے تھے تو آپ ﷺ کے سانس کی آواز آیا کرتی تھی۔ ”فَآذَنَهُ بلال بالصلاة“ یعنی صبح کی نماز کی آپ ﷺ کواطلاع دی۔ آپ ﷺ نے پہلے فجر کی سنتیں پڑھیں اور پھر مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور جماعت کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی۔ ”آپ ﷺ نے دوبارہ وضونہیں کیا“ بلکہ اپنے پہلے وضو پر ہی اکتفا کیا۔ یہ نبی ﷺ کے خصائص میں سے ہے۔ یعنی آپ ﷺ کی نیند ناقض وضو نہیں تھی؛ کیوں کہ آپ ﷺ کی آنکھیں تو سوتی تھیں، لیکن دل نہیں سوتا تھا۔ چنانچہ اگر کوئی وضو توڑنے والی شے خارج ہوئی ہوتی، تو آپ ﷺ کو پتہ چل جاتا، بہ خلاف دیگر لوگوں کے۔ اسی لیے جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا: اے عائشہ! میری آنکھیں تو سو جاتی ہیں، لیکن میرا دل جاگتا رہتا ہے۔ اپنی دعا کے اندر آپ ﷺ یہ فرمایا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْنِي نُورًا“ اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری نظر میں نور پیدا فرما، میرے کان میں نور پیدا فرما، میری دائیں طرف نور پیدا کر ، میری بائیں طرف نور پیدا کر ، میرے اوپر نور پیدا کر ، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر ، میرے پیچھے نور پیدا کر اور مجھے نور عطا فرما۔ آپ ﷺ نے اپنے اعضا اور اپنی تمام جہات کے لیے نور طلب کیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ حق واضح اور روشن ہو جائے اور اس کی طرف راہ نمائی حاصل ہو۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے تمام اعضا، اپنے جسم مبارک، اپنے تمام تصرفات و تحرکات اور اپنی چھے جہات میں نور عطا کیے جانے کی دعا کی؛ تا کہ ان میں سے کوئی بھی شے نور حق سے عاری نہ رہ جائے۔

تشریح: العربية

يخبر ابن عباس رضي الله عنهما في هذا الحديث أنه نام عند خالته ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم و-رضي عنها- "فأتى حاجَتَه" أي: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يحتاج إليه من البول والغائط، "فغسل وجهه ويديه، ثم نام" بعد أن قضى حاجته صلى الله عليه وسلم غسل وجهه للتنشيط، ويديه للتنظيف، "ثم قام، فأتى القِرْبَة فأطْلَق شِنَاقَهَا" يعني: بعد أن استيقظ النبي صلى الله عليه وسلم من نومه قصد القِرْبَة، فحَلَّ الخيط الذي يُشَد به فَوْهَة السِقَا؛ لحفظ ما بداخله من ماء ونحوه، "ثم توضأ" وضوئه للصلاة "وضُوءًا بَيْن وضُوءَيْنِ" توضأ من غير إخلال ولا مُبَالغة، فكان بين الأمرين، ولهذا قال: "لم يُكْثِرْ" أي: اكتفى بأقل من ثلاث مرات، وهذا جائز والسُّنة ثلاث مرات، "وقد أَبْلَغَ" يعني: أسبع الوضوء بأن أوصله إلى ما يجب إيصاله إليه، وهذا القدر الواجب، "فصلَّى" صلاة الليل، "فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ"، يقول ابن عباس رضي الله عنهما أنه كان يرقب النبي صلى الله عليه وسلم في أفعاله، ثم إنه تمدد وأظهر خلاف ما هو عليه، حتى لا يشعر النبي صلى الله عليه وسلم بأنه كان يرقبه؛ ولهذا قال: "كراهية أن يرى أني كنت أَتَّقِيهِ"، يعني: أرصده وأرقب أفعاله. فهذا سبب تمدد ابن عباس رضي الله عنهما وتصنعه بالتمدد؛ وإنما فعل ذلك؛ لأن الغالب أن الإنسان إذا خَلا في بيته قد يأتي بأفعال لا يحب أن يَطلع عليها أحد، أو لأنه خشي أن يترك بعض عمله صلى الله عليه وسلم بسبب مراقبته؛ لما جَرى من عادته صلى الله عليه وسلم أنه كان يترك بعض العمل؛ خَشية أن يفرض على أمَّته. فأراد أن يتخفى بفعله ذلك؛ لأجل أن يأخذ من النبي صلى الله عليه وسلم كل دقائق أموره من حين أن يستيقظ إلى أن يأتيه الدَّاعي لصلاة الفجر، وهذا من حرصه رضي الله عنهما على تحصيل العلم من أصله. قال: "فتوضَّأت"، وفي رواية: "فتوضأت نحوًا مما توضأ" وفي رواية في البخاري :"فقمت فصنعت مثل ما صنع"، "فقام يصلي فَقُمْتُ عن يساره" يعني: أن ابن عباس لما رأى النبي صلى الله عليه وسلم دخل في صلاته توضأ ولحق بالنبي صلى الله عليه وسلم إلا أنه قام عن يسار النبي صلى الله عليه وسلم ، "فأخذ بِأُذُنِي" يعني: أن النبي صلى الله عليه وسلم أخذ بأذنه ثم أداره من جهة اليسار إلى اليمين، وفي رواية: "فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده اليُمنى على رأسي، وأخذ بأذني اليُمنى يَفْتِلُها بيده "ووضع يده أولا؛ ليتمكن من مسك الأذن، أو لأنها لم تقع إلا عليه، أو لينزل بركتها به ليعي جميع أفعاله -عليه السلام- في ذلك المجلس وغيره، قال: "وفتلها" إما: لينبهه على مخالفة السنة أو ليزداد تيقظه لحفظ تلك الأفعال، أو ليزيل ما عنده من النعاس، أو لإدارته من اليسار إلى اليمين، أو لتأنيسه؛ لكون ذلك في ظلمة الليل كما صرح بذلك ابن عباس في رواية البخاري؛ أو لإيقاظه أو لإظهار محبته؛ لأن حاله كانت تقتضي ذلك؛ لصغر سنه. "فَأَدَارَنِي عن يمينه" أي: أداره عن جانب يساره إلى جانب يمينه، وهي موقف المأموم الواحد من الإمام. "فَتَتَامَّت صلاته" فسرها بقوله: "ثلاث عشرة ركعة" أي: أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى تلك الليلة ثلاث عشرة ركعة مع ركعة الوتر، يفصل بين كل ركعتين بسلام، كما في رواية البخاري: "يسلم من كل ركعتين"، وفي رواية عند البخاري ومسلم: "ثم صلى ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين، ثم أوتر" أي: بركعة واحدة مفصولة عن الركعتين؛ لأنه إذا صلى ركعتين ركعتين ست مرات مع الفصل بين كل ركعتين صارت الجملة اثنتي عشرة ركعة غير ركعة الوتر، وكانت جميع صلاته صلى الله عليه وسلم ثلاث عشرة ركعة، فلم يبق الوتر إلا ركعة واحدة. "ثم اضطجع فنام حتى نَفَخ" أي كان يتنفس بصوت حتى يسمع منه صوت النَّفخ، "وكان إذا نام نَفَخ، فَآذَنَهُ بلال بالصلاة" أعلمه بصلاة الصُّبح، "فصلَّى" سنة الفجر أولاً، ثم خرج إلى المسجد فصلى الصبح بالجماعة، "ولم يتوضأ" بل اكتفى بالوضوء السابق، وهذا من خصائصه صلى الله عليه وسلم أن نومه لا ينقض الوضوء؛ لأن عينيه تنامان ولا ينام قلبه، فلو خرج حدث لأحس به بخلاف غيره من الناس، ولهذا لما قالت عائشة رضي الله عنها "أتنام قبل أن توتر؟ قال: (يا عائشة إن عيني تنامان ولا ينام قلبي). "وكان يقول في دعائه" أي: من جملة دعائه تلك الليلة هذا الدعاء: "اللهم اجعل في قلبي نورا، وفي بَصري نورا، وفي سمعي نورا، وعن يميني نورا، وعن يساري نورا، وفَوْقِي نورا، وتحتي نورا، وأمامي نورا، وخلفي نورا، واجعل لي نورا"، وسأل النور في أعضائه وجهاته، والمراد به بيان الحق وضياؤه والهداية إليه، فسأل النور في جميع أعضائه وجسمه وتصرفاته وتقلباته وحالاته وجملته في جهاته الست حتى لا يزيغ شيء منها عنه.

  • جواز أن يبيت الرَّجل عند خالته أو عمته أو غيرهما من المحارم، وإن كانت ذات زوج، إذا عُلم من ذلك رضى صاحب البيت.
  • أنه -صلى الله عليه وسلم- بَشر، يأكل ويشرب ويتغوط وينام وينفخ في نومه، فدل ذلك على أنه -صلى الله عليه وسلم-، ليس له شيء من خصائص الألوهية أو الربوبية، وقد قال عن نَفْسه -صلى الله عليه وسلم-: (إنما إنا بشرٌ مثلكم أنسَى كما تَنْسَون).
  • استحباب وضوء الإنسان لنفسه بغير استعانة؛ لقوله: "فأطلق شِنَان القِرْبَة ثم توضأ"، والاستعانة جائزة؛ لأحاديث أخرى.
  • أن غسل أعضاء الوضوء أقل من ثلاث مرات مجزئ، لكن بشرط الإسباغ، والسُّنة ثلاث غسلات.
  • ما كان عليه ابن عباس -رضي الله عنهما- من الحرص على الخير وتعلم العلم، والاقتداء به -صلى الله عليه وسلم- والاقتباس منه، وحفظ أفعاله وأقواله من صغره.
  • أن نية الإمامة ليست شرطا من أول الصلاة؛ لأن ابن عباس -رضي الله عنهما- دخل مع النبي -صلى الله عليه وسلم- بعد أن شرع -عليه الصلاة والسلام- في صلاته.
  • أن موقف الواحد من الإمام يكون عن يمين الإمام لا عن يساره ولا من خلفه.
  • أن موقف المأموم الواحد من الإمام يكون مساويا للإمام؛ لأنه لم يَذكر تقدم ابن عباس عن النبي -صلى الله عليه وسلم- ولا تأخره عنه.
  • تحويل الإمام للمأموم إذا وقف عن يساره.
  • أن الحركة اليسيرة في الصلاة لا تبطلها؛ يؤخذ هذا من إدارته -صلى الله عليه وسلم- لابن عباس، وانتقال ابن عباس -رضي الله عنهما- من الجانب الأيمن إلى الجانب الأيسر.
  • أن صلاة الصبي صحيحة، وأن موقفه من الإمام كالبالغ.
  • أن صلاة الجماعة في النوافل جائزة، لكن لا على سبيل الدوام.
  • أن تهجد النبي -صلى الله عليه وسلم- من الليل ثلاث عشرة ركعة.
  • أن الأفضل في صلاة الوتر وغيرها من النوافل أن يسلِّم من كل ركعتين؛ لقول ابن عباس -رضي الله عنهما- كما في الرواية الأخرى: (يسلِّم من كل ركعتين).
  • فيه أن الأفضل أن يختم وتره بركعة مفصولة، فيصلي ركعتين ركعتين... ثم يوتر بركعة، كما في الرواية الأخرى عن ابن عباس -رضي الله عنه-.
  • اختصاص النبي -صلى الله عليه وسلم- ببعض الأحكام دون سائر الأمة، ومن ذلك عدم انتقاض الوضوء بالنوم.
  • الاستكثار من فضل الله -عز وجل-؛ فإن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مع ما جَبَلَه الله -عز وجل- عليه من النُّور الذي فضل فيه الأولين والآخرين لم يقنعه ذلك حتى سأل ربه المزيد منه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید