حدیث

جب تم میں سے کوئی کھانا کھا چکے، تو اپنے ہاتھ کو نہ پونچھے، یہاں تک کہ اس کو خود چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: ««إذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا، أَوْ يُلْعِقَهَا».

ترجمہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھا چکے، تو اپنے ہاتھ کو نہ پونچھے، یہاں تک کہ اس کو خود چاٹ لے یا اسے کسی اور کو چٹا دے“۔

تشریح

نبی ﷺ نے حکم دیا کہ جو شخص کھانا کھا چکے، وہ اپنے ہاتھ کو اس وقت تک نہ تو پونچھے اور نہ ہی دھوئے، جب تک اسے چاٹ نہ لے یا اسے چٹا نہ دے۔ بعض روایات میں اس حکم کی علت یہ آئی ہے کہ اس شخص کو نہیں معلوم کہ اس کے کس کھانے میں برکت ہے۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے انگلیوں کے چاٹنے کا حکم دیا کہ ہو سکتا ہے کہ برکت اس کھانے میں ہو، جو ان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔

تشریح: العربية

أمر النَّبِي صلى الله عليه وسلم مَنْ أكل طَعَاماً ألا يَمْسَحَ يده أَو يغسلها حتى يَلْعَقَها أَو يُلْعِقَها، وقد جاءت علة هذا في بعض الروايات أَنَّهُ لا يَدْرِي في أيّ طَعامِه الْبَرَكَة، ومِنْ أَجْلِ ذَلِك أَمَرَ النَّبي صلى الله عليه وسلم بِلَعْقِ الأَصَابِعِ فَلَعَلَّ الْبَرَكَة فِيمَا عَلِقَ بِها مِنْ الطَّعَام.

  • لَعْقُ الْأَصَابِعِ، ومثلِه الإنَاء، لما فِيهِ مِنْ الْتِمَاسِ بَرَكَةِ الطَّعام التي لا يُعْلَم: هَلْ هِي في أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ ؟ وتَعْظِيمُ نِعَمِ الله، قَلِيلها و كثيرِها، وعَدَمُ التَّكَبُّرِ عَنْهَا.
  • صَوْنُ نِعَمِ الله وحِفْظُهَا؛ لِئَلَّا تَقَع في مَوْضِعٍ قَذِرٍ نَجِسٍ، أَوْ تُهَانُ فِيهِ.
  • النهي عن مسح الآكل يده بشيء قبل لعقها أو إلعاقها على الكراهة لا على التحريم والله أعلم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید