ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه «أنَّه جَاء إِلى الحَجَر الأَسوَدِ، فَقَبَّلَه، وقال: إِنِّي لَأَعلَم أَنَّك حَجَرٌ، لا تَضُرُّ ولا تَنفَعُ، ولَولاَ أَنِّي رَأَيتُ النبيَّ -صلَّى الله عليه وسلَّم- يُقَبِّلُك مَا قَبَّلتُك».
ترجمہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ حجرِ اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لینے کے بعد کہنے لگے: مجھے اچھی طرح سے علم ہے کہ تو ایک پتھر ہے ۔ تو نہ کچھ نقصان دے سکتا ہے اور نہ کوئی نفع۔ اگر میں نے نبی ﷺ کو تمہارا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تمہارا بوسہ نہ لیتا۔
تشریح
اوقات، مقامات اور دیگر اشیاء بذات خود اس قدر مقدس و معظم نہیں ہوتے بایں طور کہ یہ ذاتی طور پر عبادت کی تعظیم کے حقدار ہوں، بلکہ ان کی تعظیم شریعت کی بنا پر ہوتی ہے۔ اسی لیے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حجرِ اسود کے پاس آئے اور حاجیوں کے سامنے اس کا بوسہ لیا جنھیں بتوں کی پوجا اور ان کے احترام کو چھوڑے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا اور وضاحت فرمائی کہ اس پتھر کو چومنا اور اس کی تعظیم کرنا ان کی اپنی اپچ نہیں اور نہ ہی اس وجہ سے ہے کہ اس سے کوئی نفع یا نقصان ہوتا ہے بلکہ یہ تو ایک عبادت ہے جسے انھوں نے شارع علیہ السلام سے لیا ہے۔ انھوں نے نبی ﷺ کو ا س کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ کی اقتداء میں انھوں نے بھی اس کا بوسہ لیا نہ کی اپنی ذاتی رائے کی بنا پر یا خود ساختہ طور پر ایسا کیا۔
تشریح: العربية
الأمكنة والأزمنة وغيرها من الأشياء، لا تكون مقدسة معظمة تعظيم عبادةٍ لذاتها، وإنَّما يكون لها ذلك بشرع؛ ولهذا جاء عمر بن الخطاب رضي الله عنه إلى الحجر الأسود وقبله بين الحجيج، الذين هم حديثو عهد بعبادة الأصنام وتعظيمها، وبين أنَّه ما قبل هذا الحجر وعظمه من تلقاء نفسه، أو لأن الحجر يحصل منه نفع أو مضرة؛ وإنما هي عبادة تلقَّاها من المشرِّع صلى الله عليه وسلم فقد رآه يقبله فقبله؛ تأسيا واتباعا، لا رأيا وابتداعا.
- مشروعية تقبيل الحجر الأسود للطائفين عندما يحاذونه، إن أمكن بسهولة.
- تقبيله ليس لنفعه أو ضرره، وإنما هو عبادة لله -تعالى-، تلقيناها عن النبي -صلى الله عليه وسلم-.
- العبادات توقيفية؛ فلا يشرع منها إلا ما شرعه الله ورسوله، ومعنى هذا أن العبادات لا تكون بالرأي والاستحسان، وإنما تتلقى عن المشرع، وهذه قاعدة عظيمة نافعة، تؤخذ من كلام المحدث الملهم أمير المؤمنين عمر بن الخطاب -رضي الله عنه وأرضاه-.
- أن فعل النبي -صلى الله عليه وسلم- من سنته المتبعة؛ فليس هناك خصوصية إلا بدليل.
- إذا صحت العبادة عُمل بها ولو لم تُعلم حكمتها؛ لأنَّ امتثال الناس وطاعتهم في القيام بها من الحِكم المقصودة.
- من فعل حقًّا قد يوهم الباطل وجب عليه بيان ما يدفع هذا الوهم.
- تبيين ما يوهم العامة من مشاكل العلم؛ حتى لا يعتقدوا غير الصواب.
- فضيلة عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- بحرصه على حماية جناب التوحيد.