حدیث

میں نے آپ کو قبلہ کی بجائے دوسری طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اگر میں رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے نہ دیکھتا تو میں بھی نہ کرتا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أنس بن سيرين قال: «اسْتَقبَلنَا أَنَسًا حِين قَدِم مِن الشَّام، فَلَقِينَاه بِعَينِ التَّمرِ، فَرَأَيتُهُ يُصَلِّي على حِمَار، وَوَجهُهُ مِن ذَا الجَانِب -يعني عن يَسَارِ القِبلَة- فقلت: رَأَيتُك تُصَلِّي لِغَيرِ القِبلَة؟ فقال: لَولاَ أنِّي رَأيتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُه ما فَعَلتُه».

ترجمہ

انس بن سیرین روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ شام سے جب واپس ہوئے، تو ہم ان سے عین التمر میں ملے۔ میں نے دیکھا کہ آپ گدھے پر سوار ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا منہ قبلہ سے بائیں طرف تھا۔ اس پر میں نے کہا کہ میں نے آپ کو قبلہ کی بجائے دوسری طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اگر میں رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے نہ دیکھتا، تو میں بھی نہ کرتا۔

تشریح

انس بن مالک رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے۔ ان کی جلالت قدر اور علمی وسعت کی وجہ سے لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ مسلم کی روایت میں ”قَدِمَ الشَّامَ“ یعنی جب شام تشریف لائے ہی ہے، لیکن اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے انس رضی اللہ عنہ کی شام سے واپسی پر ملاقات کی، اس روایت میں ان کے رجوع کا ذکر حذف کر دیا گیا کیوں کہ یہ بات معلوم ہے اس لیے کہ وہ سب ان کی ملاقات کے لیے بصرہ سے باہر آئے جبکہ وہ شام سے واپس ہوئے تھے۔ راوی جو کہ استقبال کرنے والوں میں شامل تھے، کا بیان ہے کہ انھوں نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ گدھے پر نماز پڑھ رہے تھے، بایں طور کہ قبلہ ان کے بائیں جانب تھا۔ راوی نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے لوگوں کو بتایا کہ انھوں نے نبی ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا اور یہ کہ اگر انھوں نے آپ ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا، تو وہ بھی ایسا نہ کرتے۔

تشریح: العربية

قدم أنس بن مالك الشام، ولجلالة قدره وسعة علمه، استقبله الناس، وهكذا رواية مسلم (قدم الشام) ولكن معناها: تلقيناه في رجوعه حين قدم الشام، وإنما حذف ذكر الرجوع؛ للعلم به؛ لأنهم خرجوا من البصرة للقائه حين قدم من الشام. فذكر الراوي -وهو أحد المستقبلين- أنَّه رآه يصلى على حمار، وقد جعل القبلة عن يساره، فسأله عن ذلك، فأخبرهم أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم يفعل ذلك، وأنه لو لم يره يفعل هذا، لم يفعله.

  • استحباب تلقي المسافر.
  • أنَّ قبلة المصلى على الراحلة، حيث توجهت به راحلته.
  • جواز صلاة النافلة على الراحلة، في السفر، ولوكان المركوب عليه حمارا.
  • حسن أدب ابن سيرين، ويظهر ذلك في تلطفه في سؤال أنس بن مالك -رضي الله عنه-.
  • أفعال النبي -صلى الله عليه وسلم- حجة.
  • العمل بالإشارة؛ في قوله: من ذا الجانب.
  • طهارة الحمار لأن ملامسته مع التحرز عنه متعذِّرة.
  • سؤال الطالب العالم عن مستند فعله، وجواب العالم بالدليل.
  • حسن اقتداء الصحابة -رضي الله عنهم- بالنبي -صلى الله عليه وسلم-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید