ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي شُريح خُويلد بن عمرو الخزاعي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «مَنْ كَان يُؤمِن بِاللهِ وَاليَومِ الآخِرِ فَلْيُكْرِم ضَيفَه جَائِزَتَه»، قَالوا: وما جَائِزَتُهُ؟ يَا رسول الله، قال: «يَومُهُ ولَيلَتُهُ، والضِّيَافَةُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلك فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيه». وفي رواية: «لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يؤْثِمَهُ» قالوا: يَا رَسول الله، وَكَيفَ يُؤْثِمَهُ؟ قال: «يُقِيمُ عِندَهُ ولاَ شَيءَ لَهُ يُقرِيهِ بهِ».
ترجمہ
ابو شریح خویلد بن عمرو الخزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی دستور کے مطابق ہر طرح سے عزت کرے۔ پوچھا: یا رسول اللہ! دستور کے موافق کب تک ہے۔ فرمایا: ”ایک دن اور ایک رات اور میزبانی تین دن کی ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ اس کے لیے صدقہ ہے“۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پاس اس حد تک ٹھہرے کہ اسے گناہ گار ہی کردے۔لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ اسے گناہ گار کیسے کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ اس کے پاس ٹھہرے حالانکہ اس کی مہمان نوازی کے لیے اس کے پاس کچھ نہ ہو۔
تشریح
ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث دلالت کرتی ہے کہ مہمان کا اکرام اور اس کی خدمت کرنی چاہیے۔ نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ "جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے"۔ اس میں مہمان کے اکرام کی ترغیب ہے اور اس پر ابھارا گیا ہے یعنی مہمان کا اکرام کرنا اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کی علامت ہے اور اس سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان کامل ہوتا ہے۔ جن باتوں سے مہمان کی تکریم ہوتی ہے وہ یہ ہیں: چہرے کی بشاشت، خوشگوار گفتگو، تین دن کھانا کھلانا، پہلے دن حسب استطاعت اور جس قدر میسر ہو اور باقی دنوں میں بلا تکلف جو ہو پیش کرنا تاکہ اس سے نہ تو مہمان پر بوجھ آئے اور نہ خود اس پر۔تین دن کے بعد مہمان نوازی صدقہ شمار ہوتی ہے، چاہے تو کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "فليكرم ضيفه جائزته يوما وليلة والضيافة ثلاثة أيام"۔ اس میں ’جائزہ‘ کے لفظ کے معنی میں علماء کا کہنا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک دن اور ایک رات مہمان کا خوب خیال رکھے اور اس کے ساتھ جو کچھ بھی اچھائی اور بھلائی ممکن ہو وہ کرے۔ جب کہ دوسرے اور تیسرے دن میں جو کچھ میسر ہو وہ اسے کھلائے اور اپنے معمول سے نہ بڑھے۔ جب کہ تین دن کے بعد یہ صدقہ اور نیکی ہے اگر چاہے تو کرلے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔ مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ: " اس (مہمان) کے لیے جائز نہیں کہ وہ میزبان کے ہاں اس حد تک قیام کرے کہ اسے گناہ گار ہی کر دے"۔ یعنی مہمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ میزبان کے ہاں تین دن کے بعد بھی قیام جاری رکھے یہاں تک کہ اسے گناہ گار کر دے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اس کے لمبے قیام کی وجہ سے اس کی غیبت کر بیٹھے یا اس کے ساتھ کچھ ایسا سلوک کرے جس سے اس کو تکلیف ہو یا پھر اس کے بارے میں کوئی گمان رکھے جو کرنا جائز نہیں۔ یہ سب اس صورت پر محمول ہے جب وہ میزبان کی دعوت کے بغیر اس کے ہاں تین دن کے بعد تک ٹھہرا رہے۔ یہاں یہ جان لینا مناسب ہے کہ مہمان کا اکرام مہمان کی حالت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگ بڑے اور معزز ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان کا اکرام ان کے شایانِ شان کرے۔ بعض لوگ متوسط درجے کے ہوتے ہیں ان کا اکرام ان کے لحاظ سے ہونا چاہیے۔ کچھ لوگ ان سے بھی کم تر درجے کے ہوتے ہیں۔
تشریح: العربية
حديث أبي شريح الخزاعي رضي الله عنه يدل على إكرام الضيف وقراه، فلقد جاء عنه أنَّ النبي -صلى الله عليه وسلَّم- قال: "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه"، وهذا من باب الحث والإغراء على إكرام الضيف، يعني أنَّ إكرام الضيف من علامة الإيمان بالله واليوم الآخر، ومن تمام الإيمان بالله واليوم الآخر. ومما يحصل به إكرام الضيف: طلاقة الوجه، وطيب الكلام، والإطعام ثلاثة أيام، في الأول بمقدوره وميسوره، والباقي بما حضره من غير تكلف، ولئلا يثقل عليه وعلى نفسه، وبعد الثلاثة يُعد من الصدقات، إن شاء فعل وإلا فلا. وأما قوله: "فليكرم ضيفه جائزته يوما وليلة والضيافة ثلاثة أيام" قال العلماء في معنى الجائزة: الاهتمام بالضيف في اليوم والليلة، وإتحافه بما يمكن من بر وخير، وأما في اليوم الثاني والثالث فيطعمه ما تيسر ولا يزيد على عادته، وأما ما كان بعد الثلاثة فهو صدقة ومعروف إن شاء فعل وإن شاء ترك. وفي رواية مسلم "ولا يحل له أن يقيم عنده حتى يؤثمه" معناه: لا يحل للضيف أن يقيم عنده بعد الثلاث حتى يوقعه في الإثم؛ لأنه قد يغتابه لطول مقامه، أو يعرض له بما يؤذيه، أو يظن به مالا يجوز، وهذا كله محمول على ما إذا أقام بعد الثلاث من غير استدعاء من المضيف. ومما ينبغي أن يعلم أن إكرام الضيف يختلف بحسب أحوال الضيف، فمن الناس من هو من أشراف القوم ووجهاء القوم، فيكرم بما يليق به، ومن الناس من هو من متوسط الحال فيكرم بما يليق به، ومنهم من هو دون ذلك.
- وجوب إكرام الضيف.
- يستحب للضيف التخفيف في الزيارة.
- الضيافة ثلاثة أيام من حقوق الأخوة، والزيادة على ذلك صدقة و وزيادة فضل.
- المطلوب من المُضيف أن يُبالغ في إكرام ضيفه في اليوم الأول وليلته، وأما في باقي اليومين فيأتي بما تيسر.
- يكره للمسلم أن ينزل ضيفاً عند أخيه وهو يعلم أنه فقير ليس عنده ما يُضيفه حتى لا يوقعه في الإثم، كالغيبة له والوقيعة فيه، أو يقترض المال من أجل ضيافته.
- التنفير من أكل أموال الصدقات؛ لأنها أوساخ الناس.