حدیث

میں تیرا دین، تیری امانت اور تیری زندگی کے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

كَانَ ابنُ عمرَ -رضِيَ الله عنهما- يَقُول لِلرَّجُل إِذَا أَرَادَ سَفَرًا: ادْنُ مِنِّي حَتَّى أُوَّدِعَكَ كَمَا كَان رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- يُوَدِّعُنَا، فَيقُول: «أَسْتَوْدِعُ الله دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ». وعن عبد الله بن يزيد الخطمي رضي الله عنه- قال: كَانَ رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوَدِّعَ الجَيشَ، قال: «أَسْتَودِعُ الله دِينَكُم، وَأَمَانَتَكُم، وخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُم».

ترجمہ

جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ کرتا تو ابن عمر رضی الله عنہما اس سے کہتے، مجھ سے قریب ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں ایسے رخصت کروں جس طرح نبی ﷺ ہمیں رخصت کرتے تھے چنانچہ وہ کہتے تھے: «أَسْتَوْدِعُ الله دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ» یعنی ”میں تیرا دین، تیری امانت اور تیری زندگی کے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں“۔ عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی لشکر کو رخصت فرماتے تو کہتے «أَسْتَودِعُ الله دِينَكُم، وَأَمَانَتَكُم، وخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُم» یعنی ”میں تمہارے دین، تمہاری امانت، اور تمہاری زندگی کے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں“۔

تشریح

ابن عمر رضی اللہ عنہما اس آدمی سے کہتے تھے جو سفر کرنا چاہتا، مجھ سے قریب ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں ایسے رخصت کروں جس طرح نبی ﷺ ہمیں رخصت کیا کرتے تھے۔ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف سے بیان ہے جس سے معلوم ہوتا ہےکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کس قدر نبی مکرم ﷺ کی سنت کے اپنانے کا اہتمام فرماتے تھے۔ اور ان کا کہنا (إذا ودع رجلا) جب کسی آدمی کو رخصت کیا کرتے تھے یعنی مسافر کو۔ (أخذ بيده فلا يدعها) اس کے ہاتھ کو پکڑے رہتے اور نہیں چھوڑتے تھے، جیسا کہ بعض روایات میں مذکور ہے یعنی نبی مکرم ﷺ انتہا درجے کی تواضع اور شفقت و محبت کا اظہار فرماتے ہوئے اس شخص کے ہاتھ کو پکڑے رہتے اور نہیں چھوڑتے تھے ، اور اُسے رخصت کرتے ہوئے کہتے’’أستودِعُ اللهَ دينكَ“یعنی میں اللہ سے تمہارے دین کی حفاظت طلب کرتا ہوں۔ ”وأمانتک‘‘یعنی تمہاری امانت کی حفاظت، یہ ہر اس چیز کو شامل ہے جس کی حفاظت انسان سے مطلوب ہوتی ہے خواہ وہ لوگوں کے حقوق ہوں یا اللہ کے مکلف کردہ حقوق۔ چونکہ آدمی جب سفر میں ہوتا ہے تو لوگوں کے ساتھ ضروری لین دین اور لوگوں کے ساتھ معاملات میں مشغول ہوتا ہے جس کی بناء پر اس کے لیے امانت داری کی ذمہ داری کا خیال کرنے کے ساتھ ساتھ خیانت سے بچنے کے لیے دعا فرمائی ہے، پھر جب وہ اپنے گھر لوٹے گا تو وہ ان تمام نتائج وعواقب سے محفوظ ہو گا جو اسے دین اور دنیا کے اعتبار سے ناپسند ہوتے۔ یہی نبی مکرم ﷺ کا طریقہ تھا کہ جب آپ کسی جماعت کو جنگ کے لیے رخصت فرماتے تھے تو اس جامع دعا کے ذریعہ رخصت کرتے تھے تاکہ وہ بھلائی اور کامیابی سے ہمکنار ہوسکیں اور دشمنوں پر غالب رہیں اور میدان جنگ میں بھی اللہ کے فرائض کی حفاظت کریں۔

تشریح: العربية

كَانَ ابنُ عمرَ -رضِيَ الله عنهما- يَقُول لِلرَّجُل إِذَا أَرَادَ سَفَرًا: ادْنُ مِنِّي حَتَّى أُوَّدِعَكَ كَمَا كَان رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- يُوَدِّعُنَا، وهذا من ابن عمر بيان لكمال حرص الصحابة رضي الله عنهم على التزام هدي رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وقوله: (إذا ودع رجلا) أي مسافرا، (أخذ بيده فلا يدعها): وهذا ما جاء في بعض الروايات، أي: فلا يترك يد ذلك الرجل من غاية التواضع ونهاية إظهار المحبة والرحمة. ويقول صلى الله عليه وسلم : أي للمودع: "أستودع الله دينك" أي أستحفظ وأطلب منه حفظ دينك. و"أمانتك" أي حفظ أمانتك، وهي شاملة لكل ما استحفظ عليه الإنسان من حقوق الناس وحقوق الله من التكاليف، ولا يخلو الرجل في سفره ذلك من الاشتغال بما يحتاج فيه إلى الأخذ والإعطاء والمعاشرة مع الناس، فدعا له بحفظ الأمانة والاجتناب عن الخيانة، ثم إذا انقلب إلى أهله يكون مأمون العاقبة عما يسوءه في الدين والدنيا. وكان هذا من هديه أيضاً صلى الله عليه وسلم إذا أراد توديع الجماعة الخارجة للقتال في سبيل الله يودعهم بهذا الدعاء الجامع ليكون أدعى إلى إصابتهم التوفيق والسداد والتغلب على الأعداء والحفاظ على فرائض الله في الغزو.

  • استحباب توديع المسافر، كما صنع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
  • حرص أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على هديه في أمورهم كلها.
  • استحباب دعاء المسلم لأخيه المسلم في كافة أحواله، سواء كان بظهر الغيب أو في وجهه.
  • أعظم ما يملك المرء في حياته ويخشى ضياعه هو الدين.
  • تمنِّي المسلم لأخيه خاتمة الخير كما يتمنى لنفسه أن يختم له بعمل صالح.
  • أن الخاتمة الحسنة منوطة بالتزام التقوى والمحافظة على الأمانات الشرعية.
  • التوفيق بيد الله -تعالى-، فعلى المسلم أن يطلب ذلك بتحري أسبابه وقرع بابه.
  • استحباب توديع ولي الأمر جيشه عند الذهاب للقتال وتوصيته بمثل هذه الكلمات السابقة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید