حدیث
سفر کے آداب اور احکام
ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
21 نتائج
- 3014
- 3058
میں تیرا دین، تیری امانت اور تیری زندگی کے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - 3128
رسول الله آ اپنی اونٹنی پر نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھتے تھے، چاہے اس کا رخ جس جانب بھی ہوتا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ - 4521
- 5404
سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے۔
صحیحمتفق علیہ - 5738
- 5906
ایک وقت ہم سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک شخص اپنی سواری پر سوار ہوکر آیا۔
صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - 5937
- 5938
اکیلا سوار ایک شیطان ہے، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار ہوں تو قافلہ بنتا ہے۔
حَسَنْاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔ - 5948
بے شک تمہارا ان گروہوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے۔
صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - 5961
جب تم ہریالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان اونٹوں کو زمین میں سے ان کا حق دو ( یعنی گھاس چرنے دو) اور جب تم خشک سالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان پر جلدی سفر کرو ( یعنی سفر کے دوران راستہ میں تاخیر نہ کرو) اور ان کی سکت ختم ہونے سے پہلے (منزلِ مقصود تک) پہنچنے کی کوشش کرو۔
صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - 5966
رات کو سفر کیا کرو کیونکہ رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔
صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - 5968
- 5970
جب تین آدمی سفر پر نکلیں تو انھیں چاہیے کہ وہ اپنے میں سے ایک کو امیر بنا لیں۔
حَسَنْاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - 5971
رسول الله ﷺ سفر کے دوران پیچھے رہتے، کمزور (کی سواری کو) کو آگے ہانکتے، (اگر وہ پیدل ہوتا تو اسے) اپنے پیچھے سوار کرتے اور اس کے لیے دعا کرتے۔
صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - 6003
- 6005
- 6102
اللہ کے تقوی کو اپنائے رکھو اور ہر بلند جگہ پر اللہ اکبر کہو۔
حَسَنْاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - 6206
جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے، تو ”الله اكبر“ کہتے اور جب (کسی نشیب میں) اترتے، تو ”سبحان الله“ کہتے تھے۔
یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - 6207
اے لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو ۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے ۔ بے شک وہ بہت سننے والا اور بہت قریب ہے۔
صحیحیہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔