حدیث

تم اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ، ان میں رہو اور انہیں (دین) سکھاؤ اور (نیکی کا) حکم دو۔ دیکھو یہ نماز فلاں وقت اور یہ نماز فلاں وقت پڑھنا۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو ایک شخص تم میں سے اذان دے اور جو تم میں سے بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي سليمان مالك بن الحويرث رضي الله عنه قال: أَتَينَا رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- ونَحنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُون، فَأَقَمْنَا عِندَهُ عِشْرِينَ لَيلَةً، وَكَان رَسُولُ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- رَحِيمًا رَفِيقًا، فَظَنَّ أَنَّا قَدْ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا، فَسَألَنا عمَّنْ تَرَكْنا مِنْ أَهلِنا، فأَخبَرنَاه، فقال: «ارْجِعُوا إلى أَهْلِيكُم، فَأَقِيمُوا فيهم، وَعَلِّمُوهُم وَمُرُوهُم، وَصَلُّوا صَلاَةَ كَذَا في حِينِ كذَا، وصَلُّوا كَذَا في حِينِ كَذَا، فَإِذا حَضَرَتِ الصلاةُ فَلْيُؤذِّن لكم أَحَدُكُم وَلْيَؤُمَّكُم أكبركم». زاد البخاري في رواية له: «وصَلُّوا كَمَا رَأَيتُمُونِي أُصَلِّي».

ترجمہ

ابو سلیمان مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے۔ ہم آپ ﷺ کے ساتھ بیس راتیں رہے۔ آپ ﷺ بہت رحم دل اور نرم خو تھے۔ آپ ﷺ کو خیال ہوا کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یاد آ رہے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ہم سے ہمارے ان اہل خانہ کے بارے میں پوچھا جنہیں ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ہم نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ، ان میں رہو اور انہیں (دین) سکھاؤ اور (نیکی کا) حکم دو۔ دیکھو یہ نماز فلاں وقت اور یہ نماز فلاں وقت پڑھنا۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو ایک شخص تم میں سے اذان دے اور جو تم میں سے بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔ امام بخاری کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ ”اور نماز اسی طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے“۔

تشریح

مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے“۔ یہ عام الوفود یعنی ہجرت کے نویں سال کا واقعہ ہے۔ یہ سب لوگ نوجوان تھے اور نبی ﷺ کے پاس انہوں نے بیس راتوں تک قیام کیا۔ یہ لوگ اللہ کے دین کو سمجھنے کے لیے آئے تھے۔ مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”آپ ﷺ بہت رحم دل اور نرم خو تھے۔ آپ ﷺ کو خیال ہوا کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یاد آ رہے ہیں“۔ یعنی ہمارا ان سے ملنے کو دل چاہ رہا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ہم سے ہمارے ان اہل خانہ کے بارے میں پوچھا جنہیں ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ہم نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ، ان میں رہو اور انہیں (دین) سکھاؤ اور (نیکی کا) حکم دو اور فلاں نماز کو اس وقت پڑھو اور فلاں نماز کو اس وقت پڑھو۔ اورجب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرائے۔ امام بخاری کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ تم اسی طرح نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے‘‘۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ رحم دلی و نرمی میں مشہور تھے۔ آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ سب لوگوں سے بڑھ کر رحم دل تھے اور سب سے زیادہ نرم خوئی سے پیش آتے تھے۔ آپ ﷺ رحیم بھی تھے اور شفیق بھی۔ آپ ﷺ نے جب یہ دیکھا کہ ان لوگوں کو اپنے گھر والے یاد آ رہے ہیں تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ وہ اپنے پیچھے کن لوگوں کو چھوڑ کر آئے ہیں؟ انہوں نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا۔ آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جائیں۔ ”اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرائے“۔ یہ امامت کے لیے بڑے کو مقدم کرنے کی دلیل ہے۔ یہ بات نبی ﷺ کے اس فرمان کے منافی نہیں ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ: لوگوں کو وہ شخص امامت کرائے جو سب سے زیادہ قرآن کا قاری ہو۔ کیونکہ یہ سب نوجوان ایک ہی وقت میں آئے تھے اور ظاہر ہے کہ قرأتِ قرآن کے لحاظ سے ان کے مابین کوئی واضح فرق نہیں تھا اور اس معاملے میں وہ ایک دوسرے کے قریب قریب ہی تھے۔ ان میں سے کوئی بھی دوسرے سے زیادہ قرآن کا قاری نہیں تھا۔ اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرائے“۔ کیونکہ قرأت کے معاملے میں وہ سب برابر یا قریب قریب تھے۔ جب یہ لوگ قرأت، سنت اور ہجرت کے معاملے میں برابر ہو گئے تو پھر امامت کا حق بڑے کا ہو گا اور وہ اسے ہی مقدم کریں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز ویسے پڑھو جیسے تم میں نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے“۔ یہ اس نبوی طریقۂ کار کی تاکید ہے کہ آپ ﷺ قول و فعل دونوں کے ذریعے تعلیم دیا کرتے تھے۔ جس شخص نے سکون کے ساتھ نماز نہ پڑھی اسے آپ ﷺ نے یہ فرما کر تعلیم دی کہ ”جب نماز کے لیے تمہارا کھڑا ہونے کا ارادہ ہو تو اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ ہوجاؤ اور پھر قرآن کا جو بھی حصہ چاہو اسے پڑھو اور پھر رکوع کرو...الخ“۔ جب کہ ان نوجوانوں کو آپ ﷺ نے فعل (عمل) کے ذریعے تعلیم دی۔

تشریح: العربية

قال مالك رضي الله عنه : "أتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن شببة متقاربون"، وهذا في عام الوفود في السنة التاسعة من الهجرة، وكانوا شبابا فأقاموا عند النبي صلى الله عليه وسلم عشرين ليلة. جاءوا من أجل أن يتفقهوا في دين الله، قال مالك: "وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم رحيما رفيقا فظن أنا قد اشتقنا أهلنا" يعني اشتقنا إليهم، "فسألنا عمن تركنا من أهلنا فأخبرناه فقال: ارجعوا إلى أهليكم فأقيموا فيهم وعلموهم ومروهم وصلوا صلاة كذا في حين كذا، فإذا حضرت الصلاة فليؤذن لكم أحدكم وليؤمكم أكبركم" زاد البخاري "وصلوا كما رأيتموني أصلي". فدل هذا أن النبي صلى الله عليه وسلم كان مشهورا بالرحمة والرفق، فكان أرحم الناس بالناس، وكان أرفق الناس بالناس -عليه الصلاة والسلام- رحيما رفيقا، فلما رأى أنهم اشتاقوا إلى أهلهم وسألهم من خلَّفوا وراءهم وأخبروه، أمرهم أن يرجعوا إلى أهليهم. "وليؤمكم أكبركم" دليل على تقديم الكبير في الإمامة، وهذا لا ينافي قوله -عليه الصلاة والسلام-: "يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله"؛ لأن هؤلاء الشباب كلهم وفدوا في وقت واحد، والظاهر أنه ليس بينهم فرق بيِّن في قراءة القرآن، وأنهم متقاربون ليس بعضهم أقرأ من بعض؛ ولهذا قال: "وليؤمكم أكبركم" لأنهم متساوون في القراءة أو متقاربون، فإذا تساووا في القراءة والسنة والهجرة، فإنه يرجع إلى الأكبر سنا ويقدمونه. وفي قوله صلى الله عليه وسلم : "صلوا كما رأيتموني أصلي" وهذا مؤكد لما كان عليه الهدي النبوي من تعليم الناس بالقول وبالفعل. فعلَّم الذي صلَّى بغير طمأنينة بالقول قال: "إذا قمت إلى الصلاة فأسبغ الوضوء، ثم استقبل القبلة، فكبر، ثم اقرأ ما تيسر معك من القرآن، ثم اركع" إلى آخره. أما هؤلاء الشباب فعلمهم بالفعل.

  • بيان شفقة النبي -صلى الله عليه وسلم- على أصحابه.
  • وجوب الرحلة في طلب العلم، إن لم يتهيَّأ للإنسان في بلده.
  • من أراد العلم فعليه بالبحث عنه، والصبر على تحصيله، ومفارقة الأهل والأحبة من أجل الوصول إليه.
  • الشباب أقوى على حمل العلم والرحلة إليه.
  • وجوب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر.
  • وجوب تعليم العالم الناس الذين لا يعلمون وتفقيههم في الدين.
  • إذا عاد المتعلم إلى قوم هم أقل منه علما وجب عليه تعليمهم.
  • للصلوات المفروضة أوقات لا يحصل معرفتها إلا بالتعليم.
  • تقديم الأكبر سنا في الإمامة إذا استوى مع غيره في العلم أو كان أعلم منهم.
  • القوم يؤمهم أعلمهم بكتاب الله وسنة رسوله، ولكنهم لما كانوا قد تعلموا معا عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وفي وقت واحد وكانوا جميعا يحرصون على مجلسه لم يبق في الإمامة إلا السن.
  • مشروعية الأذان للصلوات.
  • أنَّ النبي -صلَّى الله عليه وسلَّم- كان يعَلِّم الناس بالقول وبالفعل.
  • استحباب سؤال ولي الأمر أفراد رعيته عن حالهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید