حدیث

اپنی صفوں کو سیدھا کر لو؛ ورنہ اللہ تمھارے مابین تفرقہ ڈال دے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

عربی متن

عن النعمان بن بشير رضي الله عنه مرفوعاً: «لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُم أو لَيُخَالِفَنَّ الله بين وُجُوهِكُم». وفي رواية: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يُسَوِّي صُفُوفَنَا، حتى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بها القِدَاح، حتَّى إِذَا رأى أَنْ قد عَقَلْنَا عَنهُ، ثم خَرَج يومًا فَقَام، حتَّى إِذَا كاد أن يُكَبِّرُ، فَرَأَى رَجُلاً بَادِيًا صَدرُهُ، فقال: عِبَادَ الله، لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُم أو لَيُخَالِفَنَّ الله بين وُجُوهِكُم».

ترجمہ

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی صفوں کو سیدھا کر لو؛ ورنہ اللہ تمھارے مابین تفرقہ ڈال دے گا“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری صفوں کو سیدھا فرماتے، اتنا سیدھا کہ یوں لگتا کہ آپ ﷺ ان سے تیر سیدھے کریں گے۔ یہاں تک کہ جب آپ ﷺ كو محسوس ہوا کہ ہم آپ کے فرمان کو سمجھ چکے ہیں۔ پھر ایک دن آپ ﷺ باہر آئے اور (نماز كے لیے) کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ تکبیر کہنے ہی والے تھے کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا، جو اپنا سینہ باہر نکالے ہوئے تھا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! اپنی صفوں کو سیدھا کرو؛ ورنہ اللہ تمھارے مابین اختلاف ڈال دے گا“۔

تشریح

نبی ﷺ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اگرصفیں برابر اور سیدھی نہ کی گئیں، تواللہ تعالیٰ ان لوگوں کے مابین اختلاف پیدا فرما دیں گے، جن کی صفیں ٹیڑھی ہیں اور جنھوں نے ان کو سیدھا نہ کیا۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے، جب صف میں کچھ لوگ دوسرے لوگوں سے آگے بڑھ جاتے ہیں اور اپنے مابین خالی جگہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ نبی ﷺ قول کے ذریعے سے اپنے صحابہ کو تعلیم دیتے اور فعل کے ذریعے سے ان کی تہذیب فرماتے۔ چنانچہ آپ ﷺ انھیں اپنے ہاتھ سے درست فرماتے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کو یہ محسوس ہوا کہ وہ اس بات کو جان چکے ہیں اورسجمھ گئے ہیں۔ ایک نماز میں آپ ﷺ نے ایک صحابی کو دیکھا کہ صف میں ان کا سینہ اپنے ساتھیوں کے مابین کچھ ابھرا ہوا ہے اور باہر آ رہا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ غصہ میں آ گئے اور فرمایا: ”اپنی صفوں کو سیدھا کر لو، ورنہ اللہ تمھارے مابین اختلاف ڈال دیں گے“۔

تشریح: العربية

أكد صلى الله عليه وسلم أَّنَّه إن لم تعدل الصفوف وتسوى فليخالفنَّ الله بين وجوه الذين اعوجت صفوفهم فلم يعدلوها، وذلك بأنه حينما يتقدم بعضهم على بعض في الصف، ويتركون الفرجات بينهم. وكان صلى الله عليه وسلم يعلم أصحابه بالقول ويهذبهم بالفعل، فظل يقيمهم بيده، حتى ظن صلى الله عليه وسلم أنهم قد عرفوا وفهموا، وفي إحدى الصلوات رأى واحدا من الصحابة قد بدا صدره في الصف من بين أصحابه، فغضب صلى الله عليه وسلم وقال "لتسون صفوفكم أو ليخالفن الله بين وجوهكم".

  • التحذير من كل ما يوقع التباغض والتنافر.
  • ظاهر الحديث، وجوب تعديل الصفوف، وتحريم تعويجها، للوعيد الشديد.
  • شدة اهتمامه -صلى الله عليه وسلم- بإقامة الصفوف، فقد كان يتولى تعديلها بيده الكريمة وهذا يدل على أن تسوية الصفوف من وظيفة الإمام.
  • الجزاء من جنس العمل، فقد توعد بمخالفة وجوههم مقابل مخالفة صفوفهم.
  • غضب النبي صلى الله عليه وسلم على اختلاف الصف، فيقتضي الحذر من ذلك.
  • جواز كلام الإمام فيما بين الإقامة والصلاة لما يعرض من الحاجة.
  • يتحتَّم على الإمام أن لا يُكبِّر حتَّى يَتأَكَّد من تأديته لمهامه في تسوية صفوف المأمومين.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید