ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: «أراني في المنام أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ، فجاءني رجلان، أحدهما أكبر من الآخر، فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الأصغرَ، فقيل لي: كَبِّرْ، فَدَفَعْتُهُ إلى الأكبر منهما».
ترجمہ
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کر رہا ہوں۔ اسی درمیان دو آدمی میرے پاس آئے۔ ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا۔ میں نے ان میں سے چھوٹے کو مسواک دے دی، مگر مجھ سے کہا گیا کہ بڑے کو دو۔ چنانچہ میں نے ان میں سے بڑے کو مسواک دے دی“۔
تشریح
نبی ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ ﷺ مسواک کر رہے ہیں۔ اسی دوران آپ ﷺ کے پاس دو آدمی آئے؛ جن میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا۔ آپ ﷺ نے مسواک ان میں سےچھوٹے کو دینا چاہا، لیکن آپ ﷺ کو کہا گیا کہ دینے میں بڑے کو مقدم رکھیے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے وہ ان میں سے بڑے کو دے دی۔
تشریح: العربية
رأى النبي صلى الله عليه وسلم في النوم أنه كان يَتَسَوَّك بسواك، فجاءه رجلان أحدهما أكبر من الآخر، فأراد أن يعطيه إلى الأصغر منهما، فقيل له: قدم الأكبر في الإعطاء، فأعطاه إلى الكبير منهما.
- رؤيا الأنبياء حق؛ لأنها وحي معصوم؛ ولذلك ما يحدث فيها يدخل في التشريع.
- استحباب استخدام السواك؛ لأنه سنة نبوية مؤكدة، وهو مطهرة للفم، مرضاة للرب، وبخاصة عند الوضوء والصلاة وقراءة القرآن.
- أنَّ استعمال سواك الغير بإذنه غير مكروه، ويستحب غسله ثم استعماله.
- فيه تقديم ذي السن في السواك، ويلتحق به الطعام والشراب والمشي والكلام.
- يجوز اجتهاد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لكن لا يقر على خطأ بل يصوَّب مباشرة.