ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ.
ترجمہ
عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر کشادہ کرتے کہ آپ ﷺ کی دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب سجدہ کرتے تو سجدے کے دوران دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے اس قدر الگ رکھتے کہ دونوں بغلوں کی چمڑی کی سفیدی نظر آتی۔ یہ دراصل دونوں بازوؤں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنے میں مبالغہ ہے۔
فوائد
- سجدے کی حالت میں دونوں بازوؤں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنا مستحب ہے۔
- جب مقتدی کے دونوں بازوؤں کو زیادہ کھولنے کی وجہ سے اس کے بغل والے انسان کو تکلیف ہونے لگے، تو یہ اس کے حق میں مشروع نہيں ہوگا۔
- سجدے کی حالت میں بازوؤں کو پہلوؤں سے الگ رکھنے کے پیچھے بہت سی حکمتیں اور اس کے بہت سے فائدے ہیں۔ جیسے نماز میں رغبت اور چستی دکھانا اور یہ کہ جب انسان سجدے کے تمام اعضا کو زمین پر رکھ دیتا ہے، تو ہر عضو عبادت میں محو ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس کی حکمت یہ بتاتے ہیں کہ یہ کیفیت تواضع سے زیادہ مشابہ اور چہرے اور ناک کو اچھے سے زمین پر رکھنے میں زیادہ معاون ہے۔ اس سے ہر عضو الگ الگ بھی نظر آتا ہے۔
تشریح: العربية
كَانَ صلى الله عليه وسلم إذا سجد فرَّج بين يديه أثناء السجود؛ فنحَّى كلَّ يد عن الجنب الذي يليها، مثل الجناحين، حتى يبدو لون جلد إبطيه؛ وهذا من المبالغة في تجنيح الذراعين ومباعدتهما عن جانبيه.
- استحباب هذه الهيئة في السجود، وهي مباعدة عَضُديه عن جنبيه.
- المأموم الذي يتأذَّى جارُه بالمجافاة؛ فلا يُشرع له ذلك.
- في المجافاة في السجود حِكم وفوائد كثيرة، منها: إظهار النشاط والرغبة في الصلاة، وأنه إذا اعتمد على كل أعضاء السجود أخذ كل عضو حقه من العبادة. وقيل: الحكمة في ذلك أنه أشبه بالتواضع، وأبلغ في تمكين الجبهة والأنف من الأرض، وأيضًا ليتميز كل عضو بنفسه.