حدیث

جب ہم نبی ﷺ کے پاس آتے، تو ہم میں سے جس کو جہاں جگہ ملتی وہاں بیٹھ جاتا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیح لغیرہاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن جابر بن سمرة رضي الله عنه قال:كنا إذا أتينا النبي صلى الله عليه وسلم جلس أحدنا حيث ينتهي.

ترجمہ

جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی ﷺ کے پاس آتے، تو ہم میں سے جس کو جہاں جگہ ملتی وہاں بیٹھ جاتا۔

تشریح

اس حدیث میں نبی ﷺ کی مجلس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے (اُسوہ) ادب کو واضح کیا گیا کہ نبی ﷺ کی مجلس میں جب کوئی صحابی تشریف لاتے تو مجلس جہاں ختم ہوتی وہ وہیں بیٹھ جاتے، چاہے وہ اس مجلس کا ابتدائی حصہ ہو یا آخری حصہ۔ لہذا جب کوئی شخص کسی جماعت میں داخل ہو تو وہیں بیٹھ جائے جہاں مجلس ختم ہوتی ہو اور مجلس کے ابتدائی حصہ کی جانب نہ بڑھے، الا یہ کہ کوئی اس کو فوقیت دیتے ہوئے اپنی جگہ بٹھادے یا اس کے لیے مجلس کے ابتدائی حصہ میں جگہ چھوڑ دے تو (اس جگہ بیٹھنے میں) کوئی حرج و مضائقہ نہیں، تاہم رہا وہ شخص جو اہلِ مجلس کو مشقت میں مبتلا کرتے ہوئے لوگوں سے یوں کہنے لگے کہ پرے ہٹو، میں مجلس کے ابتدائی حصہ میں بیٹھوں گا تو یہ عمل نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی ہدایت و منہج کے خلاف ہوگا اور یہ اس بات کی بھی علامت ہوگی کہ اس انسان میں کچھ تکبر اور خودپسندی کا جذبہ موجود ہے۔

تشریح: العربية

الحديث فيه بيان أدب الصحابة رضي الله عنهم في مجلس النبي صلى الله عليه وسلم ، حيث كانوا إذا جاء أحدهم مجلس النبي صلى الله عليه وسلم جلس حيث انتهى به المجلس سواء كان في صدر المحل أو أسفله، فالإنسان إذا دخل على جماعة يجلس حيث ينتهي به المجلس، ولا يتقدم إلى صدر المجلس إلا إذا آثره أحد بمكانه أو كان قد ترك له مكان في صدر المجلس فلا بأس، وأما أن يشق المجلس وكأنه يقول للناس ابتعدوا وأجلس أنا في صدر المجلس، فهذا خلاف هدي النبي صلى الله عليه وسلم وهدي أصحابه رضي الله عنهم ، وهو يدل على أن الإنسان عنده شيء من الكبرياء والإعجاب بالنفس.

  • استحباب الأدب في المجالس.
  • استحباب الجلوس حيث ينتهي به المجلس، سواء كان في صدر المحل أو أسفله، كما كان -صلى الله عليه وسلم- يفعله.
  • على القادم أن يجلس حيث يجد فراغا إلا ما خصص لأحد أو حُجِزَ المكان لعذر طرأ على صاحبه.
  • لا يطلب قيام أحد من مجلسه ليجلس مكانه.
  • لا ينبغي للقادم الوقوف على رأس الحلقة أو المجلس ينتظر مَن يقوم له, كما يفعل بعض الجبابرة من الرؤساء.
  • يجوز لمن وجد فرجة في المجلس أن يتخطى ليسد الخلل ما لم يؤذ, فإن خشي فالواجب في حقه الجلوس حيث ينتهي به المجلس.
  • حرص الصحابة -رضي الله عنهم- على مجالسة النبي -صلى الله عليه وسلم-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید