حدیث

نبی ﷺ جس قدر اہتمام فجر کی دو سنتوں کا کرتے تھے اتنا کسی اور نفلی نماز کا نہیں کرتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

عربی متن

عن عائشة بنت أبي بكر الصديق رضي الله عنهما قالت: «لم يَكُن النبي صلى الله عليه وسلم على شيء من النَّوَافل أشد تَعاهُدَاً منْهُ على ركْعَتَي الفَجْرِ». وفي رواية: «رَكْعَتا الفَجْرِ خيرٌ منَ الدُّنيا وما فيها».

ترجمہ

عائشہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ جس قدر اہتمام فجر کی دو سنتوں کا کرتے تھے اتنا کسی اور نفلی نماز کا نہیں کرتے تھے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”فجر کی دو رکعتیں دنیا و ما فیہا سے بہتر ہیں“۔

تشریح

اس حدیث میں فجر کی دو رکعت سنتوں کی اہمیت اور ان کے بارے میں وارد ہونے والی تاکید کا بیان ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ان پر بہت زور دیا ۔ آپ ﷺ نے اپنے عمل سے بھی ان کی اہمیت کو اجاگر کیا بایں طور کہ آپ ﷺ ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرتے اور قولی طور پر اس کی اہمیت پر یہ فرما کر زور دیا کہ یہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہیں۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث بيان لما لركعتي الفجر من الأهمية والتأكيد، فقد ذكرت عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم أكدهما وعظم شأنهما بفعله، حيث كان شديد المواظبة عليهما، وبقوله، حيث أخبر أنهما خير من الدنيا وما فيها.

  • كون النبي -صلى الله عليه وسلم- يتعاهدهما أكثر من غيرهما.
  • الاستحباب المؤكد في ركعتي الفجر، فلا ينبغي إهمالهما.
  • عظم فضلهما، حيث جُعلا خيرًا من الدنيا وما فيها.
  • أنَّ إهمال من أهملهما -على سهولتهما وعظم أجرهما وحث الشارع عليهما- يدل على ضعف دينه، وحرمانه من الخير العظيم.
  • راتبة الفجر تصلى في الحضر والسفر، بخلاف راتبة الظهر والمغرب والعشاء فلا تصلى إلا في الحضر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید