ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يزورُ قُبَاءَ راكبًا وماشيًا، فيُصَلِّي فيه ركعتين. وفي رواية: كان النبي صلى الله عليه وسلم يأتي مسجد قُبَاءَ كل سَبْتٍ راكبًا وماشيًا، وكان ابن عُمر يفعله.
ترجمہ
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سوار اور پیادہ (مسجدِ) قباء تشریف لاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ مسجد قباء میں ہر ہفتے کے دن سوار اور پیادہ تشریف لاتے۔ اور ابن عمر بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
تشریح
قباء کا علاقہ جس میں اسلام کی سب سے پہلی مسجد تعمیر کی گئی مدینہ کے بالائی حصے کے قریب واقع ایک چھوٹی سی بستی ہے۔ نبی ﷺ سوار اور پیادہ اس کی زیارت کے لیے تشریف لاتے۔ راوی کا یہ کہنا کہ "ہر ہفتے کے دن" تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے بعض ایام کو زیارت کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔ نبی ﷺ کی ہر ہفتے کے دن قباء آنے میں حکمت یہ تھی کہ آپ ﷺ کا انصاری لوگوں سے تعلق قائم رہے اور آپ ﷺ ان کا اور ان لوگوں کا حال جان سکیں جو آپ ﷺ کے ساتھ نمازجمعہ میں حاضر ہونے سے رہ جاتے تھے۔ اور بطور خاص ہفتے کے دن آنے میں یہی راز پنہاں تھا۔
تشریح: العربية
منطقة قباء التي بُنِيَ بها أول مسجد في الإسلام قرية قريبة من مركز المدينة من عواليها، فكان النبي صلى الله عليه وسلم يزوره راكبا وماشيا، وقوله كل سبت: حيث كان يخصص بعض الأيام بالزيارة والحكمة في مجيئه صلى الله عليه وسلم إلى قباء يوم السبت من كل أسبوع، إنما كان لمواصلة الأنصار وتفقُّد حالهم وحال من تأخَّر منهم عن حضور الجمعة معه، وهذا هو السِر في تخصيص ذلك بالسبت.
- استحباب زيارة مسجد قباء، وقد صح الخبر عن سيِّد البشر -صلى الله عليه وسلم- أن من خرج من بيته متطهرًا فصلى فيه ركعتين كان كعدل عمرة.
- حرص عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما- على التأسِّي برسول الله -صلى الله عليه وسلم-.